سورہ الضحیٰ اور مثبت سوچ – ہمایوں مجاہد تارڑ

یوں لگتا ہے، سورۃ الضحٰی positive thinking کے ایک اہم پہلُو dimension کا ایک خوبصورت پوسٹر ہے۔ وہ پہلو کیا ہے؟ اس خاطر ایک عمومی سا لفظ ہے reflection، یعنی سوچ بچار۔ تاہم، لفظ reflection باقاعدہ اصطلاح کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے، یعنی پیچھے مڑ کر ماضی کواس نظر سے دیکھنا کہ گذرے واقعات سے سیکھا جائے، اور جیون میں جو کچھ مثبت واقع ہوا، اُس سے حوصلہ کشید کیا جائے۔

ایسی ریفلیکشن ہمیں نئی توانائی عطا کرتی ہے، پروگریشن میں آئی رکاوٹ کے ضمن میں صبروبرداشت اور ڈٹے رہنے کی سپرٹ دیتی ہے، اور بتدریج اُس رکاوٹ کو عبور کر لینے کی اُمّید بندھاتی ہے ۔ جبکہ مُڑ کر دیکھنا ایک اور طرح کا بھی ہوتا ہے جس سے تاسّف یا سوگوار کیفیتیں کشید کی جاتی ہیں، یعنی بس regrets میں گُھل گُھل کر پگھلتے رہنا۔ایک عظیم مشن پر روانہ ہوئے protagonist کے کان میں سرگوشی کی گئی ہے کہ محبوب! حوصلہ نہ ہارنا۔ آفتاب کے اُجالے کی قسم، ہر سُو چھا جانے والی تاریکی کی قسم۔ یہ گھٹتے بڑھتے سائے، یہ سب ساعتیں اِس بات پر گواہ ہیں کہ تیرا ربّ مسلسل تیرے ساتھ کھڑا ہے۔ اُس نے تمہارا ساتھ کبھی چھوڑا، نہ وہ تم سے کسی بات پر خفا ہے۔ جان رکھو، وہ تمہیں اتنا کچھ دے گا کہ خوش ہو جاؤ گے۔

اتنا کہہ کر یہ “موٹی ویشنل سپیکر” اب اُوپر مذکور پازیٹو تِھنکنگ کے اُسی tool کو ایپلائی کرتا ہے، اپنے مخاطب کو ریفلیکشن mode پر شفٹ دیتے ہوئے ۔۔۔ کہا، ذرا پیچھے مُڑ کر دیکھو تو سہی۔ تم یتیم اور بے آسرا تھے، تمہیں ٹھکانا دے دیا۔ تم رہنمائی کی تلاش میں سرگرداں پائے گئے، تمہیں بہترین guidance دے دی۔ تم غریب / حاجت مند تھے، تمہیں آسودگی دے دی۔ یہ جملے استفہامیہ / سوالیہ ہیں — زیادہ emphasis لیے ہوئے: اَلَم یَجِدکَ یَتِیماً فَاٰوٰی؟ ۔۔۔ جتایا جا رہا کہ جس نے پہلے تھام رکھا تھا، آگے کی دھوپ چھاؤں میں بھی وہی شجرِ سایہ دار!! اب، وہ بات کی جو آج کل کے اکثر موٹی ویشنل سپیکرز اپنے پروگرامز میں بتایا کرتے ہیں:

If you want to lift yourself up, lift someone else.

یعنی کسی گِرے ہوئے کا ہاتھ تھام لو۔ تو کہا، کسی یتیم پر ستم نہ ڈھانا۔ کسی حاجت مند کو repel کرنے سے گریز کرنا۔ آخر میں ایک اور tool ایپلائی کیا جا رہا جس کے لیے موٹی ویشنل سپیکرز gratitude یا thankfulness ایسے الفاظ بطور اصطلاح یا tool استعمال کیا کرتے ہیں۔ کہا، پیمبرؐ! جو حاصل نہیں اُس پر شکوہ و شکایت والے کلمات ادا کرنے کی بجائے، جو کچھ حاصل ہے اس پر شکر ادا کرنے والا رویّہ اختیار کرنا: ‘پس اپنے ربّ کی عنایت کا ذکر کیا کر۔’

دیکھا آپ نے؟ اللہ تو خود موٹیویشنل سپیکر ہے۔ قرآن بھرا پڑا ہے uplifting قسم کے مواد سے۔

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)