حیاء اورحجاب – حمادیہ صفدر

حیا اورحجاب الفاظ ذہن میں آتے ہیں توایک شرم و حیاء کا لبادہ اوڑھے ہوۓ ، نظریں جھکاۓ ہوۓ با پردہ سی لڑکی کا تصور ذہن میں آتا ہے ۔ تعلیماتِ اسلامیہ محض عورت پرہی نہیں حیا کو لازم کرتی جبکہ شرم و حیاء کا لباس مرد اور عورت دونوں پر ہی لازم و ملزوم ہے . اور قرآن جب غضِ بصر کا حکم دیتا ہے تو مرد کو پہلے مخاطب کیا گیا ہے ۔

فرمانِ خداوندی :۔
“اے نبی ﷺ مومن مردوں سے فرما دیں کہ وہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں” ۔

پھراسی سےمتصل حکم عورتوں کودیا گیا۔ فرمایا:۔
“اے نبیﷺمومنہ عورتوں سے فرمادیں کہ وہ اپنی نظریں بچاکررکھیں اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اوراپنی زینت کوظاہرنہ کریں”۔

بدنگاہی بےسکونی کی وجہ کیسے نہ ہو
بدنگاہی جرم ہےتو پھر سزا کیسے نہ ہو

حکمِ حجاب :۔
اسلام پردے کا حکم دے کر عورت کو قید نہیں کرتا بلکہ برائی سے بچنے اور اپنی عزت کی حفاظت کےاقدام کرتا ہے ۔ کہا جاتا ہے پردہ کرنے سے کیا ہوجاتا ہے …….. نیت صاف ہونی چاہیے ؟ لیکن اس طرح کی باتیں کرنے والے لوگ جان لیں کہ جب حکم حجاب آیا تو ان مستورات نے بھی اپنے آپ کوچادروں میں چھپایا جن کے حیاء اور شرم کی گواہی دینے کیلیے قرآن بول اٹھا ۔

ارشادِ ربانی :۔
“اےنبیﷺاپنی ازواج سے اوراپنی بنات سے اور اہلِ ایمان عورتوں سےفرمادیجیے کہ وہ اپنے اوپرچادروں کےپلو لٹکالیاکریں یہ بہترطریقہ ہےکہ وہ پہچان لی جائیں اورنہ ستائی جائیں”۔

لمحہءِ موجود میں بے وزن سوال اٹھانے والا ہر فرد متوجہ ہو ! کہ اس حکمِ حجاب پراولین عمل کرنے والی عورتیں وہ نبی ﷺ ازواج آپ ﷺ کی بنات اور آپ ﷺ کی صحابیات تھیں …… جنھوں نے اس حکم کوسنااورمکمل رات/رات کوتادیرانکے دیےجلتے رہے اورانھوں نے اپنے گھروں میں موجود چھوٹےچھوٹےکپڑوں کوسلائی کرکے اپنی چادریں بنالی تھیں تا کہ صبح فجرکی نمازمیں بےپردہ نہ جانا پڑے . کہیں حکمِ رب اکبر اورحکمِ نبی ﷺ میں کمی کوئی کوتاہی نہ ہوجاۓ۔

غیرمحرم سےہمکلام ہونے کاطریقہ:۔
اگرکسی غیرمحرم سےبات کرناپڑتی ہے توقرآن یوں رہنمائی کرتاہے۔
“کہ تم دبی ہوئی آوازمیں بات نہ کروکہ جس کےدل میں مرض ہے وہ لالچ کرلے۔اوراپنے گھروں میں ٹک کررہو۔اوردورجاھلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو”۔

گھروں میں ٹکنے سےمرادیہ نہیں کہ گھروں میں مقید ہوجاؤ بلکہ اس سےمراد یہ ہےکہ تم بلاوجہ بغیرکسی عذرکے گھرسےنہ نکلو۔
اور جاہلیت کی سی سج دھج سےمنع فرمایا۔ جاہلیت کی زینت دوطرح سے ہے۔

1۔ایامِ جاہلیت میں عورتیں گلے میں گلوبندپہنتی تھیں اورکانوں میں بالیاں پہنتی تھیں پھراسکودکھانےکیلیے دوپٹہ سرکےاوپرلےکرکانوں کے پیچھےسےکمرپرجبکہ سینے پرصرف قمیض ہی ہوتی تھی اس سےمنع کیاگیاہے ۔ اوردوپٹےکےتین فرائض بتاۓگۓ ہیں ۔

سرڈھانپنا
سینہ ڈھانپنا
کمرڈھانپنا

2۔ امام رازی ؒفرماتےہیں کہ جاہلیت کےوقت میں مرداورعورتوں میں نظامِ مخلوط پرکوئی پابندی نہ تھی مرداورعورتیں اکٹھے بازاروں میں چلاکرتے تھے ۔اس نظام مخلوط سے منع فرمایاگیاہے۔ لیکن اگرہم جائزہ لیں توہم دیکھتے ہیں ہمارےمعاشرےمیں کو۔ایجوکیشن ہے۔ اورمختلف پہلوؤں میں اس لعنتی نظامِ مخلوط کادوردورہ ہےجس میں مرداورعورتیں ساتھ ساتھ ہوتےہیں۔یہ سراسرحکمِ شریعہ کی خلاف ورزی ہے۔

جنت پانےکیلیے عورت کیا کرے:۔
فرمان نبویﷺ:۔ عورت جب نمازِ پنجگانہ اداکرے۔ رمضان کےروزےرکھے۔ اپنےخاوندکی اطاعت وفرمانبرداری کرے ۔ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے۔ ایسی عورت کوحکم ہوگاکہ جنت کے آٹھ دروازوں میں جس سے چاہے داخل ہوجاۓ۔ (مشکٰوةشریف)

اس حدیث کےمطابق عورت کیلیےجنت پانامشکل نہیں ہے بس وہ چارافعال کواحسن طریقے سے انجام دے۔

جن عورتوں کوجنت کی خوشبونہیں ملے گی:۔
آنحضرتﷺنےفرمایا:۔
عورتیں لباس پہن کربھی برہنہ ہوتی ہیں ۔خودمائل ہوتی ہیں دوسروں کواپنے اوپرمائل کرتی اوران کے سربختی اونٹوں کی کوہانوں کی طرح ہوتے ہیں ۔ایسی عورتیں جنت میں داخل نہ ہوسکیں گی اورنہ ہی خوشبوۓ جنت کوپاسکیں گی۔ حالانکہ جنتیوں کواسکی خوشبو500میل کی مصافت سے آنے لگے گی ۔ لباس پہن کربرہنہ ہونےکی محدثین نے دووجوہات بیان کی ہیں ۔

1۔لباس بہت باریک ہوگا۔ کہ دیکھنےوالےکواس ہرعضونظرآۓ گا۔

2۔لباس تنگ ہی اتناہوگاکہ دیکھنے والابندہ سمجھ جاۓ گاکہ یہ عورت کافلاں عضو یہ فلاں عضوہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارےمعاشرےمیں باریک لباس بھی موجودہے جس کااستعمال عام ہے۔ اوربختی اونٹوں کی کوہانوں سےسرکوتشبیہ دینےسےمرادسروں کےجوڑےہیں جوبہت اونچےاوربڑےبڑےکہ دوپٹہ لےکرنمایاں ہوتے ہیں ۔

اسلام میں عورت کےمقامات:۔
اسلام نےعورت کومختلف حیثیتوں سےنوازاہےاورمختلف طریقے سےدرجات عطاکیے ہیں۔ بیٹی۔ماں باپ کی نورِ نظر بہن ۔بھائیوں کی غیرت
بیوی ۔شوہرکی عزت ماں ۔یہ رتبہ دےکراللہ اپنی جنت بھی عورت کے قدموں میں رکھ دیتے ہیں ۔ لیکن یادرہے کہ یہی رشتے ہیں جوعورت کی عزت کےمحافظ ہیں ۔اوراگرعورت بےپردہ وبدچلن ہواوریہ رشتےاس کی محافظت کاحق ادانہ کریں گے تویہ ان سب سے جنت کاداخلہ روک لے گی ۔

بےحجابی کےعلاوہ جوچیزیں مرد کو کشش کرتی ہیں ۔

1۔عورت کی چال ۔
اگرعورت زمین پردھیمےطریقے سےچلنےکےبجاۓجابجاپاؤں مارتے ہوۓ چلے توبھی مرد متوجہ ہوتے ہیں اوراسکےچال چلن کاجائزہ لیتے ہیں ۔اوراگرکوئی چھنکنےوالی چیزیعنی چوڑیاں اورگھنگرولگےہوں تواس قسم کی چھنکارسےبھی مردمائل ہوتےہیں۔

2۔خوشبوکااستعمال:۔
عورت کوبالکل ہی خوشبوکےاستعمال سےمنع نہیں کیاگیابلکہ گھرسےنکلتے وقت عورت اتنی تیزخوشبواستعمال نہیں کرسکتی کہ بازارمیں موجودتمام مردحضرات اسکی خوشبومحسوس کریں ۔

نبیﷺنےفرمایا:۔
“جس وقت کوئی عورت خوشبولگاکربازارمیں آجاتی ہےاوراسکی خوشبومردحضرات محسوس کررہےہیں توجتنے لوگ اس کےبدن سےآنے والی خوشبوکومحسوس کرتے ہیں اللہ سب کےساتھ اس عورت کازنالکھ دیتے ہیں “۔
(ترمذی کتاب الترجل)
ایک مرتبہ سیدنا ابوہریرہؓ بازارسےگزررہےتھےکہ انھوں نےسامنےسےایک عورت کوآتےدیکھاجب یہ عورت ان کےپاس سےگزری توانھوں نے اس کے بدن سے آنے والی خوشبو کو محسوس کیا ۔ فرمایا بی بی ٹھہر جا ۔ پوچھا بی بی کہاں جارہی ہو ؟ کہنے لگی میں مسجد جارہی ہوں ۔ پوچھا نماز پڑھنے جارہی ہو ؟ بولی جی ہاں نماز پڑھنے جارہی ہوں ۔ فرمایابی بی سن لو مجھےاس ذات کی قسم جس کےقبضہءِقدرت میں میری جان ہے میں نے اپنے کانوں سے نبی ﷺ کو فرماتے ہوۓ سنا ہے ۔

“جوعورت خوشبو لگا کرمسجد میں چلی جاۓ وہ جب تک واپس پلٹ کرغسلِ جنابت نہ کرے اس وقت تک میرا پروردگار اس کی کوئی عبادت قبول ہی نہیں کرتا “۔ (ابوداوٗدشریف)

حیا جن کی حیات کا حصہ تھا:۔
قرآن ایسے لوگوں کے تذکرے بڑی شان سے بیان کرتا ہے جنھوں نے اپنی زندگیاں حیا کےدائرے میں رہ کر گزاریں ۔ ان لوگوں کے نام درج ذیل ہیں ۔
1۔ سیدنایوسف ؑ
2۔ سیدہ مریم ؑ
3۔ سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ وطاہرہ (جن پرتہمت لگی توگواہی خودذاتِ باری تعالٰی نے دی)

سیدنا موسٰی ؑ اورسیدنا شعیب ؑ کی نورِ نظر۔ اورسیدنا عثمان ابن عفان حدیث میں ذکر ہےکہ فرشتے بھی ان سےحیا کیا کرتے تھے.

قصہ سیدنا موسٰی :۔
مدین کے کنویں پرموجود بھوک کے احساس میں اللہ کو پکار رہے ہیں ۔ فرمایا موسٰی پریشان نہ ہو ۔ اتنے میں شعیبؑ کی بیٹی آئی ۔ اب یہ لڑکی اپنے گھرسےچلی تواللہ نے قرآن میں تذکرہ کیا کہ وہ کیسے چلی ۔

فَجَآءَتْہُ اِحْدٰھُمَاتَمْشِیْ عَلَی اسْتِحْیَا۔ ( القصص)
ترجمہ …….. پس ان دونوں میں سے ایک چلی اورحیا کےساتھ چلی ۔

وہ حضرت موسٰی ؑ کے پاس آئی اور بولی کہ میرے بابا آپ کو بلا رہےہیں ۔ حضرت موسٰی ؑ نے چلنا شروع کردیا ۔ لڑکی آگے اورموسٰیؑ پیچھےتھے کہ ہوا آئی اور اس لڑکی کی پنڈلی ننگی ہوگئی ۔ موسٰی نے فرمایا بی بی تم پیچھے ہوجاؤ میں تمھارے آگے چلنا چاہتا ہوں اور اپنی جھولی میں پتھر رکھ لو جدھر کو مڑنا ہو پتھر پھینک دینا میں مڑ جاؤں گا ۔ (ابنِ کثیر)

یہ تقاضاہےحیاکاموسٰی ؑنبی کااور شعیب ؑ کی نورِ نظر کا جس کا چلنا بھی قرآن نے بتایا ۔ یہی تو روشن آبگینے جنھوں نے اس قدرحیا کےساتھ زندگیاں بسر کیں کہ تاریخ اپنے اوراق میں ان کے تذکرے کرنا نہیں بھولتی ۔ اب ہم سیدنا موسٰی ؑ کے طرزِ عمل کو دیکھتے ہوۓ اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے نوجوان مکمل رات میں برہنہ مجرے دیکھتے رہتے ہیں اور زبان سے دعوٰی یہی ہے ہم ہی عاشقِ رسول ہیں ۔

جن لوگوں پرجنت حرام ہے:۔
خاوند پراپنے اہل پرکڑی نظررکهنا بے حد ضروری ہے . اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وعیدِ نبوی ﷺ ہے ۔

آپ ﷺنےفرمایا:۔ تین طرح کے لوگ جنہیں کبھی جنت نہ مل سکے گی ۔
1۔ دیوث
2۔ عورتوں کا حلیہ اپنانے والا
3۔ شراب پر ہمیشگی کرنے والا

دیوث کون ہے ؟؟؟؟؟؟ جومرد اپنے اہل والوں میں بے حیائی دیکھے اور خاموش رہے اور وہ جو اپنے اہل والوں کو بے پردہ بازاروں لیے پھرے ۔

قصہ دیوث کی اہلیہ چادرمیں لپٹ گئی :۔
نواب صدیق الحسن صاحب ، محدث ، اپنے دورمیں حدیث کے مشہور و معروف معلم تھے ۔ ایک دفعہ اپنے شاگردوں کو حدیث کی تعلیم دیتے ہوۓ فرمانے لگے ۔ “جنت کے دروازے پر لکھا ہوا ہے

لاَیَدْخُلُ الْجَنَّةَ دَیُوْثَ ……….. “دیوث جنت میں داخل نہیں ہوسکےگا”

تو طلباء نے پوچھا : استادِ محترم دیوث کسے کہتے ہیں ؟ فرمانےلگے صرف بتادوں یادکھابھی دوں ؟ کہنے لگے اگر دونوں کام ہو جائیں تو زیادہ بہترہے ۔ فرمایا : شام کوفلاں وقت فلاں پارک میں آجانا ۔ مقررہ وقت میں وہ شاگرد آپکے پاس آۓ اور پوچھنے لگے کہ استادِ محترم آپنے دیوث دکھانے کا کہا تھا ۔ ایسے اپنی بیوی کی طرف اشارہ کر کے فرمانے لگے ۔ یہ دیکھو میری بیوی میرے ساتھ بے پردہ میں اسے لے کر بازار میں پھر رہا ہوں ۔ میں ہی وہ دیوث ہوں ۔ اورفرمانے لگے کہ میں نماز روزوں کے علاوہ نفلی نمازیں اور روزوں کابھی مہتمم ہوں صدقات بھی کرتاہوں ۔لیکن جنت میں نہیں جاسکتا ۔ بیوی پر ان باتوں کا اتنا اثر ہوا کہ اپنے دورمیں معروف شخصیت ، احکامِ شریعہ پرعمل پیرا ہونے والا میرا خاوند صرف میری وجہ سے جہنم میں جاۓ گا ؟ گھرگئی اور اپنے خاوند سے کہنے لگی یہ چادراپنے ہاتھوں سے مجھ پر اوڑھا دیں اورکبھی اتری ہوئی نہ پائیں گے ۔ اسلیےدورِ حاضرکے مرد حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنے اہل والوں کےحیا و حجاب کا خیال رکھیں ۔

کہاں کھو چکی ہیں امت کی بہنیں اور مائیں
اوڑھ لو ! سب اپنے اوپر حیا کی ردائیں
رب عطا کرے گا تم کو اپنی رضائیں

جو چیز ظرف سے باہر ہو:۔
1۔ حدود اسلامیہ میں حیا عورت کا ظرف حجاب لباس ہے . اگرکوئی عورت اس کو پامال کردے تواس کی مثال اس دودھ کی سی ہے جوابل کر باہر نکل آۓ اورگھر والی اسےسنک میں نچوڑدے ۔ اسکی قدرنہیں ہے۔ حالانکہ ہے تو وہ بھی دودھ لیکن ظرف سے باہر آگیا ۔ اسی طرح جوعورت ظرف سے باہر آجاۓ اسکی بھی معاشرہ قدر نہیں کرتا ۔

2۔ اوراق جب تک محفوظ جلد کےاندر بند ہوں تب ہی ان کو کتاب کہا جاتا ہے ۔

اسی طرح عورت جب تک حیا کےلبادے میں ہو تواسکی قدرکی جاتی ۔ ورنہ بے پردہ عورت کو زمانے میں کوئی عزت نہیں دیتا ۔ ہمارے معاشرے کےکئی لوگ گرمی کا رونا روتے ہیں اور اپنی عورتوں کو پردے سے روکتے ہیں ۔ لیکن جب وہی عورت مرجاتی ہےتواسی گرمی میں اس کے نرم و نازک بدن پر اتنا سخت اور موٹا لباس کیوں ڈالتے ہیں ۔ میں تو دکھ بھری اس داستان کو سمیٹتے ہوۓ آخرمیں یہی کہنا چاہوں گی ………

احساس کے انداز بدل جاتے ہیں وگرنہ
آنچل بھی اسی تار سے بنتاہےکفن بھی

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)