آزادی اور اپنے – شہلا خضر

اگست کے مہینے کا آغاز ہو چکا تھا ۔ ہمیشہ کی طرح ہر طرف “جشن آزادی” منانے کی تیاریاں زور وشور سے جاری تھیں ۔ آزادی جیسی بڑی نعمت کے احساس کی خوشی سے بچوں بوڑھوں اور جوانوں کے چہرے خوشی سے کھل رہے تھے . “کرونا وبا ” کا زور ٹوٹ چکا تھا ، لیکن ابھی مکمل طور پر ختم نہ ہوا تھا . اسی لیۓ حفاظتی تدابیر کے مطابق اس اہم دن کے استقبال کے لۓ سبھی مگن تھے ۔

رات کے کھانے کے لیۓ انجم آراء کا چھوٹا سا کنبہ بیٹا روحیل ، بہو پریشے اور دو سالہ پوتی”زنیرہ۔ سب میز پر موجود تھے ۔ آج انجم آراء نے سب کی فرمائش پر اپنے بچوں کے لۓ خاص ترکیب والی “مصالحے دار نہاری” بنائی تھی جسے سب مزے سے نوش فرما رہے تھے ۔ اچانک جہاں آراء کو زور دار چھینکوں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی ۔۔۔۔ اچھوں ۔۔۔۔۔اچھوں ۔۔۔۔۔اچھوں ۔۔۔۔ں۔ں۔ں ۔۔۔۔۔ پریشے نے ساس کی طرف چونک کر دیکھا اور تیزی سے زنیرہ کو کھینچ کر اپنے ساتھ چمٹا لیا ، “کیا ہوا امی٘ جان ؟؟؟ خیریت تو ہے ؟؟؟ پہلے تو کبھی آپ کو اتنی چھینکیں نہ آئی تھیں ؟ میں نے آپ کو کتنی دفعہ کہا ہے کہ کام والی خالہ کو دیر تک نہ بٹھایا کریں ۔۔۔۔۔۔ ﷲ خیر کرے کہیں اس نے آپ کو کوئی کرونا کا جراثیم تو نہیں لگادیا ؟؟؟ ﷲ پاک رحم فرما ہم پر ۔۔۔۔۔ ” ، ہونق بنی پریشے نے خوفزدہ لہجے میں کہا .

انجم آراء بہو کے اس تفتیشی انداز سے شرمندہ سی ہو گئیں ۔ “نہیں بہو ایسا کچھ بھی نہیں ہے ، کام والی رشیدہ بہن تو بہت صاف ستھری اور نمازی ہیں . وہ صبح سویرے سے شام تک گھروں میں کام کرتی ہیں ، اسی لۓ میں انہیں کچھ دیر اپنے پاس سستانے کوبٹھا لیتی ہوں . تم بلاوجہ پریشان ہو رہی ہو ۔ کل میں نے برف والا اورینج اسکاش پیا تھا . اسی لۓ شائد نزلہ کھانسی ہو گیا ۔” انجم آراء نے بہو کو مطمئن کرنے کی کوشش کی . پر جناب پریشے نے توجیسے کوئی بھوت پریت دیکھ لیا ہو ، ساس کی چھینکوں سے ایسی خوفزدہ ہوئی کہ بیٹی کو لے کرکمرے میں گھس کر بیٹھ گئی ………. روحیل نےجب سمجھانے کی کوشش کی تودونوں کے درمیان زوردار بحث وتکرار ہوگئی ۔ پریشے کا کہنا تھا کہ وہ زنیرہ کی صحت کے حوالے سے کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتی ۔۔۔۔۔ جہاں آراء ایک سمجھدار خاتون تھیں . وہ جانتی تھیں کہ کرونا بہت موزی وبا ہے اور اگر انہیں کوئی ایسا مسلۂ درپیش ہوا تو وہ معصوم بچی کے لۓ نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ، لہذا انہوں نے بہو بیٹے کو خود ہی فیصلہ سنا دیا کہ

“جب تک میری طبیعت مکمل طور سے بحال نہ ہوگی میں احتیاطً اپنے کمرے کے “کورنٹین” میں رہوں گی ، اور اس طرح آرام ملنے سے طبیعت جلدی ٹھیک بھی ہوجاۓ گی” ۔۔۔۔۔۔ ان کی یہ تجویز تھوڑی پس وپیش کے بعد روحیل نے مان لی ۔ اور یوں جہاں آراء کے”سیلف کورنٹین” کا آغاز ہوا ۔ جہاں آراء ایک محنتی اور باہمت خاتون تھیں . ان کے والد “شہاب الدین” تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن تھے ۔ انگریز حکومت کے خلاف مسلم لیگ کے تمام احتجاجی مظاہروں اور جلوسوں میں پیش پیش ہوتے ۔ تقسیم کے وقت جہان آراء بہت چھوٹی تھیں مگر ان کے یادوں میں وہ خون آشام رات آج بھی تازہ تھی ، جب وہ اپنے والدین دادا دادی اور چچا کے ہمراہ جالندھر کے علاقے سے انڈیا کا بارڑر پار کر کے پاکستان کی سرحد میں داخل ہونے والے تھے اور ہندو بلوائیوں نے اچانک دھاوا بول دیا ۔ سب کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر قتل کر دیا گیا ۔ جہان آراء شدید خوف سے بے ہوش ہو گئیں اور ان کو جب ہوش آیا تو وہ پاکستان کے مہاجر کیمپ میں موجود تھیں ۔

وہاں بہت سے بے سہارا افراد موجود تھے ۔ جہاں آراء کو ایک بے اولاد جوڑے نے اپنا لیا اور جہان آراء کی نئی زندگی کا آغازہوا ۔ برسوں گزر جانے کے باوجود بھی وہ یہ دردناک منظر بھول نہ پائیں تھیں ۔ جہاں آراء پاکستان سے بےانتہاء محبت کرتی تھیں کیونکہ اس آزاد وطن میں سانس لینے کے لۓ ان کے آباء واجداد نے بے شمار مصائب دیکھے . یہاں تک کہ اپنا لہو بھی نچھاور کردیا ۔ شادی کے کچھ سال بعد ہی ان کے شوہر ایک حادثے کا شکار ہو کر داغ مفارقت دے گۓ ۔ انہوں نے بیوگی کے باوجود دن رات کپڑوں کی سلائی کرکے اکلوتے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلوائی ۔ روحیل بھی بہت لائق اور فرمانبردار تھا ۔ ذہین طلباء کی فہرست میں ہمیشہ اس کا نام سر فہرست رہتا ۔ تعلیم مکمل کرتے ہی اسے ایک معروف کمپنی نے نوکری کے لۓ ہاتھوں ہاتھ لے لیا گیا ……. بیٹا پیروں پر کھڑا ہوگیا تو جہاں آراء نے جان پہچان کے ایک گھرانے میں اس کا رشتہ طے کر دیا ۔ اور جلد ہی پریشے دلہن بن کر جہاں آراء کے سونے گھر کی رونق بن کر آگئی ۔

ویسے تو پریشے پڑھی لکھی اچھی لڑکی تھی ، پر مزاج کچھ تیکھا اور جارحانہ تھا ۔ اسے ہر معاملے میں من مانی کی عادت تھی ۔ شادی کے فوراََ بعد سے ہی روحیل اور اس کی نوک جھونک کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا ۔ البتہ جہاں آراء کا معاملہ قدرے مختلف تھا ۔ وہ ساس تو بن گئیں تھیں پر سالہا سال کی کٹھن زندگی نے انہیں بہت صابر اور مضبوط اعصاب کا بنا دیاتھا ۔ وہ پریشے کا حد سے زیادہ خیال رکھتیں ۔ گھریلو زمہ داریوں کا زیادہ بوجھ خود اپنے ہی کندھوں پر اٹھاۓ رکھا ۔ وہ اپنی خدمت گزاری کی فطرت کے ہاتھوں مجبور تھیں ، انہیں کسی سے خدمت لینےکی عادت ہی نہ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روحیل پریشے کو ماں کا ہاتھ بٹانے کی تاکید کرتے پر پریشےکی ازلی سستی اور کاہلی کے باعث اس پر کچھ خاص اثر نہ ہوتا ۔ اور ایک دو دن بعد پھر اپنی پرانی ڈگر پر لوٹ آتی ۔ کچھ عرصے بعد ﷲ تعالیٰ نے انہیں پیاری سی پوتی “زنیرہ” سے نوازا .

دادی جان تو ننھی شہزادی پر دل و جان سے فدا تھیں ۔ خوب لاڈ لٹاۓ جاتے ، مالش کرنا ، نہلانا ، کپڑے تبدیل کرانا ، اس کے چھوٹے چھوٹے کام وہ بے انتہاء محبت وشوق سے کرتیں ۔ پریشے بیٹی کی پرورش کے معاملے میں ساس کی اس قدر مدد ملنے سے اور بھی زیادہ لا پرواہ اور بے فکر ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔ وقت کا پہیہ یوں ہی چلتا جا رہا تھا . زنیرہ اب دو سال کی ہو چکی تھی ۔ کرونا کی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا کہ اچانک آئی چھینکوں نے جہاں آراء کو کمرے کے “کورنٹین” پہنچا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں آراء نے یہ فیصلہ تو کر لیا ، پر انہیں فارغ بیٹھنا محال لگنے لگا ، اس سے بھی زیادہ مشکل اپنی جان سے پیاری پوتی سے دور رہنا تھا ۔ ان کا دل اپنی ننھی شہزادی کو گلے لگانے کے لیۓ مچل رہا تھا ۔ پر صبر کے سوا کوئی چارہ نہ تھا ۔ جہاں آراء نے فرصت کے لمحوں کو کار آمد بنانے کا سوچا ، کمرے میں رکھی اپنی پرانی “وفادار سلائی مشین” کو نکالا ، صاف صفائی کی ، اور پوتی کے لۓ خوبصورت فراک اور قمیض شلوار کی سلائی کرنے کی ٹھان لی ۔۔۔۔۔۔۔

سلائی کی ماہر تو وہ تھیں ہی ، دو دن کے اندر اندر انہوں نے اپنے کٹ پیس کے تھیلوں میں سے زنیرہ کے لۓ ڈھیروں پیارے پیارے کپڑے تیار کر ڈالے ۔ دوسری طرف پریشے بہت پریشان تھی ، گھر گھرہستی اکیلے سنبھالنا اسے پہاڑ سر کرنے کے مترادف لگ رہا تھا ، اور زنیرہ کی نگہداشت کا ذمہ تو شروع سے اس کی دادی کے سر تھا ، وہ حیران تھی کہ اتنے سارے کام امی جان کیسے کر لیتی تھیں ؟؟ بے ترتیبی اور بد نظمی کے باعث کام نبٹ ہی پاتے ، الٹا پریشے ہلکان سی ہو جاتی ۔۔۔۔۔۔۔ چند ہی دنوں میں پریشے کا چہرہ مرجھا گیا ۔ زنیرہ بھی کافی چڑچڑی سی ہو رہی تھی ، بلاوجہ رونا اورضد کرنا بھی شروع کردیا تھا ۔ پریشے نے کپڑوں کی دھلائی کا کام کبھی نہ کیا تھا ، مگر بہت دنوں تک جب کپڑے نہ دھلے تو میلے کپڑوں کا ڈھیر لگ گیا ۔ آخر کار چاروناچار اس نے انہیں دھونے کا فیصلہ کر لیا ۔ واشنگ مشین لگاۓ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ زنیرہ نیند سے جاگ کر رونے لگی ۔ پریشے کو شدید غصہ آیا ، “ابھی تو سُلا کر آئی تھی یہ کیسے اٹھ گئی ؟”

“ڈھیروں کپڑے باقی ہیں ، اب سارا کام چوپٹ ہو جاۓ گا …..!” ، شدید کوفت اور جھنجھلاہٹ میں وہ کمرے کی طرف لپکی ، پر فرش پر پھیلے صرف والے پانی کی طرف دھیان نہ رہا اور بری طرح پائوں پھسل گیا اور وہ دھڑام سے نیچے آ گری ۔۔۔۔۔۔۔۔ شدید درد کی لہر اس کے دائیں پیر میں اٹھی اور وہ زور سے چلائی ۔ “ہاۓ میں مر گئی ہاۓ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں ہیں امی جان ؟ جلدی آئیں ۔۔۔۔ ہاۓ ۔۔۔ے” . جہاں آراء قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول تھیں ، بہو کی آواز سن کر دوڈ کر باہر آئیں ، جلدی میں ماسک پہننے کا موقع نہ ملا پر انہوں نے دوپٹے کے پلو سے چہرہ ڈھانپ لیا ، بہو کو یوں نیچے گرے کراہتے دیکھا تو جلدی سے اسے سہارا دے کر اٹھایا اور کمرے کی طرف لے گئیں ، زنیرہ نے رو رو کر چہرہ لال کر لیا تھا ، جہاں آراء نے پوتی کو اٹھا کر سینے سے لگا یا ، دادی کی گود میں آتے ہی زنیرہ کا رونا بند ہوگیا اور وہ دادی کے ساتھ چمٹ گئی ۔

پریشے کے پیر میں شدید موچ آئی تھی ۔ جہاں آراء نے پہلے زنیرہ کو فیڈر بنا کر ماں کے ساتھ لٹا دیا ، پھر باورچی خانے سے ہلدی کا لیپ بنا کر لائیں اور بہو کے سوجے ہوۓ پیر پر لگا دیا ، جس کے باعث درد کی شدت میں کمی آئی ۔ جہاں آراء بہو کو آرام کا مشورہ دے کر کمرے سے باہر آگئیں ۔ سب سے پہلے واشنگ مشین سے تمام کپڑے دھو کر نکالے پھر باورچی خانے کا رخ کیا ، پورا باورچی خانہ اوندھا پڑا تھا ، جسے کچھ ہی دیر میں جہاں آراء نے سمیٹ کر صاف ستھرا کر دیا ۔ روحیل جب بازار سے سودا سلف لے کر لوٹے تو گھر کا نقشہ ہی بدلا ہوا تھا ۔ تمام گھر سلیقے سے صاف ستھرا دکھ رہا تھا ، زنیرہ بھی مطمئن بیٹھی اپنے کھلونوں سے کھیل رہی تھی ۔ باورچی خانے سے مزیدار پکوان بناۓ جانے کی مہک آرہی تھی ۔ والدہ نے سارا ماجرہ بتایا توروحیل نے پریشے کو تسلی دی اور کہا کہ ایک دو دن آرام ملے گا تو یہ موچ بلکل ٹھیک ہو جاۓ گی.

روحیل نے دفتر سے چند دن کی چھٹی لے لی تاکہ گھر کے کام کاج میں اپنی والدہ کا ہاتھ بٹا سکے ۔ جہا ں آراء نے ماں کی طرح پریشے کا خیال رکھا ، یہاں تک کہ کھانا بھی اسے کمرے میں دیتیں . کچھ دن مسلسل آرام ملا تو پریشے کی موچ بھی ٹھیک ہوگئی ۔اگلے دن چودہ اگست “آزادی” کا جشن منایا جانا تھا ۔ جہاں آراء مغرب کے ازکار پڑھنے میں مشغول تھیں . اتنے میں پریشے ان کے کمرے میں داخل ہوئی ،جہاں آراء نے میز پر پڑے ماسک کو پہننے کے لۓ اٹھانا چاہا تو پریشے نے ان کے ہاتھوں سے وہ لے لیا اور جہاں آراء کے قدموں میں بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ “امی٘ جان آپ کے بغیر ہم سب ادھورے ہیں ۔۔۔۔۔۔ آپ کے دم سے گھر میں ساری برکت اور رحمت ہے ۔ میں بہت نادان اور نا سمجھ ہوں . آپکی معمولی کھانسی کی وجہ سے بلا وجہ غیر ضروری پریشان ہو گئی تھی . مجھے معاف کر دیں ۔ میں نے آپ کا دل دکھا یا آپ نے تو ہمیشہ سگی ماں سے بڑھ کر میرا خیال رکھا . چند دن میں نے اکیلے وہ سب کام کۓ جنہیں آپ کے ذمے ڈال کر میں بہت بے فکری سے رہتی ہوں تو مجھے اندازہ ہوا کہ آپ نے میری آسانی اور سہولت کے لۓ کتنا زیادہ بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے . آئندہ گھر کے سارے کام میں آپ سے سیکھوں گی اور آپ کو اکیلے کچھ نہی کرنے دوں گی ۔”

پریشے شرمندہ چہرہ لۓ روۓ چلے جارہی تھی ۔ جہاں آراء نے بہو کو سینے سے لگا لیا اور کہا ، “ماں کبھی اپنے بچوں سے ناراض نہیں ہوتی ۔ مجھے کچھ بھی برا نہیں لگا ۔ تم سب کی صحت وزندگی مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ چلو بس رونا بند کرو ، تم تو میری بیٹی ہو ، بہو نہیں ” . روحیل بھی زنیرہ کو اٹھاۓ کمرے میں آ گۓ ۔ وہ ان کی باتیں سن کر مسکرانے لگے ۔ جہاں آراء نے بڑا سا تھیلا پریشے کے ہاتھوں میں تھماتے ہوۓ کہا ، “یہ لو پریشے بیٹی یہ تمُ دونوں ماں بیٹی کے لۓ میری طرف سے جشن آزادی کا تحفہ ہے ۔ کل ہم سب مل کر آزادی کی نعمت کا شکر ادا کریں گے ۔ اور اپنوں کا جو ساتھ ہمیں ملا ہے ، اس نعمت کا بھی شکر ادا کریں گے ۔ یہی ہماری اصل آزادی ہے کہ ہم کھلے دل سے ایک دوسرے کے وجود اور موجودگی کو تسلیم کریں اور انہیں اپنائیں ۔”جہاں آراء کی باتیں سن کر پریشے نے محبت سے کہا ” بلکل ٹھیک کہا امی جان ! یہ آزاد وطن اور اس میں موجود اپنے پیاروں کا ساتھ بلا شبہ اللہ کی بڑی نعمتیں ہیں …… ہمیں ان کی قدرکرنی چاہیۓ ۔”

پریشے نے خوبصورتی سے سلے ہوۓ اپنے اور زنیرہ کے سفید اور ہرے لباس کو دیکھا تو حیران رہ گئی . “ام٘ی جان ! آپ نے یہ سب کب بناۓ ؟؟ ” ، خوشی اور حیرت کے ملے جلے احساس سے اس کی آواز بھر٘ا گئی ۔ ” لاک ڈاؤن ہے تو کیا ۔۔۔۔ میری سلائی مشین پر تو لاک ڈاؤن نہیں ہے ۔ کورنٹین کے دوران فارغ تو نہ بیٹھ سکتی تھی ، اور پھرگھر کے ڈھیروں کام کاج میں الجھ کر جشن آزادی کے لۓ تمہاری تیاری بھی نہیں ہو پائی ، لہٰذا میں نے یہ سب 14 اگست کے لیۓ تیار کر کے رکھ دیۓ تھے “ جہاں آراء نے محبت بھرے لہجے میں کہا ، پریشے نے عقیدت سے جہاں آراء کے ہاتھ چوم لۓ ۔۔

“آپ کو پتہ ہے آپ دنیا کی سب سے اچھی ام٘ی جان ہیں”……. یہ کہ کر وہ جہاں آراء کے گلے لگ گئی ، پاس کھڑے روحیل اور زنیرہ بھی جہاں آراء کو چمٹ گۓ ۔ طمانیت اور خوشی کی چمک جہاں آراء کے پرسکون پاکیزہ چہرے پر جھلکنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔ اور یوں جہاں آراء کا “کورنٹین ” اختتام پزیر ہوا ، اور سب نے مل کر خوشیوں بھری ” جشن آزادی ” منائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)