چولو ٹیکا برج – طارق رحمٰن

اس پل کی کہانی بڑی دلچسپ ہے …….. 1996ء میں وسطی امریکہ کے ملک ہنڈراس میں چولوٹیکا کے مقام پر بڑے ارمانوں اور آرزووُں سے اس کی تعمیر کا آغاز کیا گیا . ایک جاپانی کمپنی کوتعمیر کی ذمہ داری دی گئی . اسکا نقشہ برطانیہ کے مشہور زمانہ گولڈن گیٹ برج کی طرز پر بنایا گیا . خوبصورتی مضبوطی اور پائیداری کیلیے تمام وسائل اور مہارتیں استعمال کی گئیں.

نتیجتََا 1998ء میں ایک شاندار سٹیٹ آف دی آرٹ پل سامنے آیا جو بلاشبہ انسانی مہارت کا شاہکار تھا ۔ ہنڈرادس طوفانوں کی سرزمین ہے ، چنانچہ اسی سال مِچ نامی طوفان آیا . جس میں 7000 لوگ جان بحق ہوگئے . طوفان کی شدت سے ارد گرد کے تمام پل تنکوں کی طرح بہ گئے لیکن عظیم الشان چولوٹیکا برج کو کوئی نقصان نہ پہنچا . یوں اسکی افادیت ثابت ہوگئی . لیکن ٹہرئیے …….. یہاں ایک دقت ہوگئی اور وہ یہ کہ اس طوفان کے نتیجے میں دریا نے اپنا راستہ بدل لیا . اب دریا پل کے نیچے سے نہیں بلکہ سائیڈ سے گزرنے لگا ۔ چولٹیکا برج کے نیچے بس چٹیل ریگستان رہ گیا . یوں اپنی خوبصورتی ، پائیداری اور مضبوطی کے باوجود چولو ٹیکا برج ایک مذاق بن کر رہ گیا . یہ برج اب بھی موجود ہے اور “برج آف نو وہئیر” کے نام سے پکارا جاتا ہے یعنی ایسا پل جو کسی کو کہیں لے کر نہیں جاتا ۔

چولوٹیکا برج ایک علامت ہے . اس صورتحال کی جس میں عظیم الشان اور پرشکوہ ڈھانچے . جب اپنا مقصد پورا نہ کررہے ہوں تو بے وقعت ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ شخصیتیں ہوں یا جماعتیں ، معاشرے ہوں یا ملک جو وقت کے ساتھ اپنے آپ کو نہیں بدلتے مذاق بن کر رہ جاتے ہیں . بالکل چولوٹیکا برج کی طرح ……… عقلمندکے لئیے اشارہ کافی ہے ۔۔۔!!!

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)