بچےاوران کا ریڈار سسٹم – محمد اسعد الدین

ڈیئر پیرنٹس !! ہوشیار …….. بچے کا ریڈار پوری اسپیڈ سے چل رہا ہے، مما ، پاپا ، گھر کے تمام لوگ مکمل رینج میں ہے . سب کچھ صاف نظر آرہا ہے ۔ ٹینشن بالکل مت لیں ، یہ کیس اسٹڈی دیکھ لیں ساری اسٹوری سمجھ میں آجائے گی ۔ بچوں کی عادتوں ، رویوں ، مزاج کے مسائل کے حوالے سے ہماری ریسرچ کا آٹھواں سال تھا . خاصا ڈیٹا ، فائینڈنگس جمع ہوگئی تھیں .

اس دوران کراچی میں ڈسٹرکٹ ایسٹ کے مڈل کلاس علاقے کے ایک اسکول میں کلاس ٹو کے معصوم طالب علم کی ”غیر نصابی ایکیٹیوٹی “ نے طبعیت صاف اور دماغ کے ٹانکے ڈھیلے کر دیئے ۔ ہوا کچھ یوں کہ مس پڑھا رہی تھیں کہ بچے نے اچانک برابر بیٹھی بچی کے گال پر پیار کیا ۔ مس نے دیکھ لیا اور نرم لہجے میں کہا : بیٹا بری بات ایسا نہیں کرتے ، چلیں شاباش بک پر فوکس کریں ۔ بچے نے جواب دیا : ”مس پپا بھی توایسے ہی کرتے ہیں“۔ مس اور بچے کے درمیان بات مکمل ہوگئی ہے ، لیکن پوری ایکسرے رپورٹ سامنے آگئی کہ گھر میں جو کچھ ہو رہا ہے ، بچہ دیکھ اور سیکھ رہا ہے کہ : اچھا یہ کام ”ایسے ہوتا ہے“ ۔
دوسری بات یہ کہ بچہ جو دیکھتا ہے ”موقع“ دیکھ کر دیکھی ہوئی ایکٹیویٹی کو خود پریکٹیس بھی کرتا ہے۔

آخری بات: گھر میں ہر فرد ہر وقت کوئی نہ کوئی کام کر رہا ہوتا ہے لیکن اکثر والدین آپس میں معمول کی بات چیت ، ہنسی مذاق بالکل اگنور کر دیتے ہیں ، جب کہ بچہ ساری باتیں سن رہا ہوتا ہے اور ہنسی مذاق کے اسٹائل دیکھ کر لرننگ کرتا ہے ۔ اس لیے پیرنٹس یاد رکھیں کہ بچے کا ریڈار گھوم رہا ہے اور سب کچھ مانیٹر کر رہا ہے۔

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)