گریہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں – افشاں نوید

رات ٹاک شوز میں حکومت , اپوزیشن کو مسئلہ کشمیر سے غفلت پر مورد الزام ٹہرا رہی تھی اور اپوزیشن حکومتی دعوں کی قلعی کھول رہی تھی ۔ سمجھ نہیں آتا ہمارا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ۔ کشمیر ایشو پر بھی حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر نہیں ۔ خود پاکستانی معترض ہیں کہ اپنے ساتھ والے پلاٹ کا لان اپنے نقشہ میں شامل کرکے آپ عدالت کیسے جاسکتے ہیں؟

یہاں سوال یہ ہے کہ بھارت ایک متنازعہ علاقے کو اپنے نقشے میں دکھاسکتا ہے؟اٹوٹ انگ کی رٹ لگا سکتا ہے؟؟ وہ شرانگیزی کے لیے بلوچستان کو پاکستان کے نقشے سے الگ کر کے وہ نقشے تقسیم کرسکتا ہے۔ وہ لاکھوں لوگوں کو مہینوں حبس بے جا میں رکھ کر ان پر زندگی تنگ کرسکتا ہے۔ دنیا کی برترین جیل ھے مقبوضہ وادی جہاں کے ظلم بھی دنیا کو پتہ نہیں چلتے۔ وہ نیٹ پر پابندی لگاتے ہیں,تعلیمی ادارے بند,قیادت پابند سلاسل, مریض ڈاکٹرز تک نہیں پہنچ سکتے۔ قبرستان آباد ہوریے ہیں۔ آبادیاں نوحہ کناں ہیں۔۔۔ ہم عید , بقرہ عید, جشن , تہوار , جلسے جلوس اپنا سالانہ کلینڈر رکھتے ہیں ۔ ہم حاضروموجود سے بے نیاز اپنی دنیا میں مگن ہیں۔

آخر چودہ اگست کا جشن آزادی کیسے مکمل ہوسکتا ہے جبکہ پاکستان ادھورا ہے …… کشمیر کے بنا ۔ فوج کے نغمے بنانے سے کیا ہوگا؟ ایک منٹ کی خامشی سے کیا ہوگا جب ہماری سالوں کی خامشی سے کچھ نہ ہوا ؟؟ پھر کرنا کیا ہے ؟ کیا کوئی قومی سوچ ہے ہمارے پاس؟؟ اگر آج جہاد کا اعلان ھوجائے تو ھم جان ومال دینے والی اولین صفوں میں ھونگے ؟؟ کشمیر کی آزادی کے ترانے کم از کم نئی نسل کو پیغام تو دے رہے ہیں کہ

لہو میں بھیگے دریدہ آنچل
قسم ہے تم کو بھلا نہ دینا

اگر نقشہ پر اعترض ہے تو پاکستان کے نقشہ کو بھی برصغیر میں دیوانے کی بڑ ہی قرار دیا گیا تھا ۔ جنگ خندق کے موقع پر جب خندق کھودتے ہوئے کلہاڑی سے نکلنے والی چنگاریوں میں آپﷺ کو قیصر و کسریٰ کی فتح نظر آرہی تھی . وہ آپ کا وژن تھا۔وقت نے اس تخیل میں حقیقت کے رنگ بھرے ۔ اگر آج پاکستان کے نقشہ میں کشمیر کو شامل کیا گیا ہے یہ ہمارا قومی وژن ہونا چاہیے ۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دن میں دیکھے گیے خوابوں کے لیے راتوں کی نیندیں حرام کرنا پڑتی ہیں ۔ آپس کے اختلافات کو بھلانا ہڑتا ہے ۔ تاریخ سے جڑنا ہوتا ہے۔ کچھ نئے جذبوں کی آبیاری کے لیے مٹی کو ناخنوں سے زرخیز کرنا ہوتا ہے!!!

پرانے جھاڑ جھنکار,خودرو مٹی کی زرخیزی چوسنے والے پودوں کو اکھاڑنا,زمین سے جدا کرنا ہوتا ہے۔ اگر ہم تیار ہیں اس جہاں بینی , جہاں سازی , جہاں گیری و جہاں آرائی کے لیے تو کشمیر کو پاکستان کے نقشہ میں شامل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

گریہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں۔

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)