دسمبر پھر دسمبر ہے

 

دسمبر پھر دسمبر ہے
دسمبر کو تم کیا جانو ؟
یہ مہکتی رات کے منظر
یہ دھندلے شام کی ٹھنڈک
یہ اڑتے بادلوں کی سرگوشی
یہ عجب انداز ہے اسکا
دلکش راز ہے اسکا
شہلا یہ دعاؤں کا

دسمبر ہے

یادوں کا سفینہ ہے

خوابوں کی آہٹ ہے
امیدوں کا دریچہ
یہ میرا دسمبر ہے
تمہارا دسمبر ہے

Leave a Reply

2 thoughts on “دسمبر پھر دسمبر ہے

  • December 6, 2013 at 3:03 PM
    Permalink

    خوابوں کی آہٹ ہے
    امیدوں کا دریچہ
    یہ میرا دسمبر ہے
    تمہارا دسمبر ہے

    Reply
  • December 29, 2013 at 1:17 PM
    Permalink

    شکریہ

    Reply

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: