بقرہ عید اور بارش – رملہ کامران

” تمھاری گائے آبھی گئ” ۔ احمد نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا ۔
” تو اس سے کیا ہوا میری گائے بھی آچکی ہے” ، اسلم عام سے انداز میں بولا ۔
“کیوں کیا تمھاری گائے نہیں آئی ؟؟؟ “علی نے پوچھنا چاہا ۔
” نہیں نہ ۔ ۔ ۔ ہماری گائے بکرا عید سے دو تین دن پہلے آتی ہے۔ ۔ لیکن اس بار ابو سے کہوں گا کہ جلدی لے آئیں تاکہ ہم تھوڑا مزہ سا بھی کر لیں گائے کے ساتھ”۔ احمد نے جواب دیا ۔

اگر تمھاری گائے بھی آگئی تو ہم چاروں مل کر ساری گائیوں کو گھمائیں گے کیونکہ میری گائے بھی آگئی ہے” عمر بولا۔
” کہاں ہے تمھاری گائے ؟؟ چلو اسے دیکھنے چلتے ہیں ۔ “علی نے ادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہوئے کہا ۔
” اوہو بھئی ابھی تو راستے میں ہے ، ٹرک میں آرہی ہے . جب آئی گی تو میں تم لوگوں کو بتادوں گا . پھر چلیں گے اس دیکھنے ۔ “عمر نے اسے کندھے سے پکڑ کر اپنی جانب کرتے ہوئے بتایا ۔
“یار مجھے تو بہت بھوک لگ رہی ہے اسی لیے میں کھانا کھانے گھر جا رہا ہوں” ، احمد کو شاید واقعی بھوک لگ رہی تھی ۔
“ہاں یار ابھی گھر چلتے ہیں شام میں جب تمھاری گائے آئے گی تو ہم سب مل کر اسے دیکھنے چلیں گیں”۔ ۔ ۔ اسلم عمر کی طرف دیکھتے ہوئے بولا اور پھر سب خدا حافظ کہہ کر اپنے اپنے گھروں کو چل دیئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

احمد نے گھر آتے ہی ایک شور مچا دیا ۔ امی کے پوچھنے پر علم ہوا کہ صاحبزادے کو گائے خریدنی ہے ۔
” بیٹا آپ اس کا خیال نہیں رکھ سکو گے اور ویسے بھی آپ کو پتہ ہے نہ کہ ہم عید سے ایک دو دن پہلے لیتے ہیں” ۔ امی نے اسے سمجھانے کی لاکھ کوششیں کی لیکن وہ نہ مانا ۔ اس نے بس ایک ہی رٹ لگائی ہوئی تھی کہ اسے گائے لینی ہے تو لینی ہے۔ ۔ آخر کار امی ابو نے ہار مان لی اور منڈی جانے کے لئیے تیار ہو گئے …….. دو گھنٹے بعد جب ٹرک سے گائے اتررہی تھی تو احمد خوشی کے مارے چیختا ہوا باہر بھاگا . کیونکہ پہلی بار احمد کی گائے اتنی جلدی آئی تھی ۔ خوشی کے مارے اسکے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے ۔ کبھی اسکو چارہ دیتا تو کبھی پانی پلاتا ۔ شام میں اسے اپنے دوستوں کے ساتھ ٹہلانے لے جاتا غرض پورا وقت اسکا گائے کے ساتھ ہی گزر رہا تھا ۔ اگر ممکن ہوتا تو رات بھی اسی کے ساتھ گزار لیتا …….

” بھئی اب بس کرو، کب سے چلائے چلے جا رہیں ہیں انکو۔۔۔اب بھگاتے ہیں نہ؟؟؟ ” عمر کو اچانک خیال آیا ۔ اج شام کو وہ سب اپنی اپنی گائے لے کر بہت دور نکلے ہوئے تھے ۔”ہاں یار بھگانے میں زیادہ مزہ آتا ہے” احمد نے اسکی تائید کی ۔ لیکن اسکو یہ خیال فکرمند کر رہا تھا کہ اسکے ابو نے گائے کو دور لانے سے منع کیا ہے اور وہ لوگ بہت دور نکل آئے تھے ساتھ میں اسکو یہاں پر مزہ بھی اٌرہا تھا اس لیے اس نے سب کو نظرانداز کر کہ اپنے دوستوں کے ساتھ چلنا جاری رکھا …….. ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ گائے کی رسی اسکے ہاتھ سے چھوٹ گئی ۔ وہ گھبرا کہ اسکے پیچھے بھاگا لیکن پھر اچانک اسکے ہاتھ پر دو موٹی موٹی بوندیں گریں ……. اسنے بے اختیار آسمان کی طرف نظریں اٹھائیں تو ہر طرف اندھیرا چھانے لگا تھا ۔ بارش سے وہ اور زیادہ پریشان ہو کر گائے کے پیچھے بھاگا اور پھر جلد ہی یہ بوندیں تیز موسلا دھار بارش میں تبدیل ہو گئیں ۔

اسکے ساتھ صرف اسلم ہی آیا تھا کیونکہ اس کے پاس گائے نہیں تھی ۔ باقی سب تو اپنی اپنی گائے لے کر واپس جا چکے تھے۔ بہت مشکلوں سے دونوں نے مل کر گائے کو پکڑا اور پھر اسے بھگا بھگا کر گھر واپس لائے . لیکن تب تک گائے آدھے سے زیادہ بھیگ چکی تھی . لیکن اب ایک اور مسلئہ کھڑا ہو گیا تھا کہ گائے کو رکھیں کدھر کیونکہ گائے کو گھر کے اندر تو رکھ نہیں سکتے تھے اور باہر کھڑے کھڑے وہ بیمار ہو سکتی تھی ۔ جلدی سے وہ ابو کو باہر بلا لایا۔ سب سے پہلے ابو دکان سے شٹر لائے پھر محلے کے ریاض صاحب اور فرحان صاحب کے ساتھ مل کہ اسے بہت زیادہ مشکلوں سے لگایا ۔ لگانے کے دوران ابو کو دو تین بار چوٹیں آئیں لیکن ابو برداشت کرتے گئے۔ جب گائے کو شٹر کے اندر لائے تو وہ تقریباً پوری ہی بھیگ چکی تھی جسکی وجہ سے آخرکار وہ بیمار ہی ہو گئی ۔ پہلا مسئلہ حل ہوئے چند سیکنڈ بھی نہیں گزرے تھے کہ اگلا مسئلہ کھڑا ہو گیا ۔

بھاگم بھاگ ابو جانوروں کے ڈاکٹروں کے پاس پہنچے۔ ڈاکٹر کو ساتھ لئیے گھر آئے، ڈاکٹر نے گائے کا معائینہ کیا اور پھر ابو کو ایک دوائی دیتے ہوئے کہا “یہ دوائی دن میں تین دفعہ کھلائیں تو انشاءاللہ اگلے دو دن تک گائے اپنی پہلی حالت میں آجائے گی” ابو نے یہ سن کر سکھ کا سانس لیا اور پھر ڈاکٹر کو فیس دے کر گھر سے باہر تک چھوڑنے گئے ۔ ان سب کاموں سے فارغ ہو کر جب ابو گھر آئے تو دیکھا کہ گھر میں بھی حد سے زیادہ کیچڑ ہو گیا ہے اور وہ خود بھی بارش سے پوری طرح بھیگ چکے تھے۔ جلدی جلدی ابو نے احمد کے ساتھ مل کر گھر کے باہر کا حصہ پورا صاف کیا . جبکہ امی نے گھر کے اندر کی صفائی کی ۔ پھر احمد اور اسکے امی ابو نے جلدی جلدی نہا دھو کر صاف ستھرے کپڑے پہنے اور پھر سب نے مل کر گرما گرم چائے پی ساتھ میں احمد کی آج کے دن کی روداد سن کر چائے کا لطف دوبالا ہو گیا ……..

ایک تو اس کا لطیف انداز اور دوسرا بیج بیج میں امی ابو کے مزیدار تبصرے …..! لیکن اس سب کے بعد احمد کو سمجھ آگیا کہ بڑے جو بات بھی کرتے ہیں . ہماری اپنی بھلائی کے لئے کرتے ہیں اور وہ کسی نہ کسی وجہ سے ہی وہ بات کہتے ہیں . اس لیے ہمیں انکی بات کو دل سے ماننا چاہیے۔

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)