مسجد اقصیٰ کی آزادی کا مژدہ – سیما پروین

اقوام متحدہ کی مخالفت کے باوجود ، ترک صدر رجب طیب اردگان کا آیا صوفیہ میوزیم کو پھر سے مسجد کا درجہ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اسلامی نظام کا نفاذ مشکل تو ہے مگر ناممکن ہرگز نہیں ۔۔۔۔۔۔۔! روم کے بادشاہ جسٹینین نے 537ء میں آیا صوفیہ چرچ تعمیر کروایا تھا جو کہ 1248ء تک عیسائیوں کا سب سے بڑا چرچ تھا۔

1453 میں عثمانی سلطان محمد الفاتح نے قسطنطنیہ کی فتح کے بعد آیا صوفیہ کلیسا کو مسجد میں تبدیل کردیا۔ آیا صوفیہ جمہوری ترکی کے شہر استنبول میں واقع ہے جس کا تاریخی نام قسطنطنیہ ہے۔ اس تاریخی شہر کو فتح کرنے کی بشارت نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

“تم ضرور قسطنطنیہ فتح کرلوگے, کیا ہی شاندار وہ امیر ہوگا اور کیا ہی شاندار وہ لشکر ہوگا”

1453ع میں سلطان محمد فاتح کے قسطنطنیہ کو فتح کرنے سے قبل بھی کئی بار اسلامی افواج نے اس کو فتح کرنے کی کوشش کی ان حملوں کی تعداد دس تھی لیکن یہ عظیم کامیابی سلطان محمد الفاتح کے ہاتھوں ہوئی۔

صفحہ دہر سے باطل کو مٹایا ہم  نے
نوع انسان کوغلامی سےچھڑایاہم نے

فتح کے بعد آیا صوفیہ کو چرچ سے مسجد میں تبدیل کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ یہ صرف انکا گرجا نہیں تھا بلکہ سیاسی گٹھ جوڑ کا مرکز بھی تھا ، اسکے علاؤہ عیسائیوں کا یہ ماننا بھی تھا کہ یہ گرجا قیامت تک انکا مرکز بنا رہے گا۔ تاریخی دستاویزات کے مطابق سلطان محمد الفاتح نے قسطنطنیہ کو فتح کرنے کے باوجود اس گرجے کو عیسائیوں سے خریدا اور مسجد میں تبدیل کروایا۔ جب کہ اس کی خرید میں سلطان نے بیت المال سے کوئی پیسہ نہیں لیا۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے آیا صوفیہ کو عالمی ورثہ قرار دیا تھا جبکہ اس کی خرید وفروخت کے اصل دستاویزات آج بھی موجود ہیں۔ 1935ع میں اسلام دشمن کمال اتاترک نے اسے میوزیم میں تبدیل کردیا تھا ، اور اب یونیسکو اور کچھ نام نہاد سیکولر اور لبرل ازم کے حامیوں کی مخالفت کے باوجود ترک صدر رجب طیب اردگان نے آیا صوفیہ کو پھر سے مسجد کا درجہ دے دیا ہے۔ جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آج بھی اسلام پسند لوگ موجود ہیں جو کہ سیکولر ازم کے خاتمے کا باعث بنے گے۔

شب گریزاں ہو گی آخرجلوۂ خورشیدسے

یہ  چمن معمور  ہوگا  نغمۂ  توحید  سے

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اپنے خطاب میں کہا کہ “آیا صوفیہ کی بحالی مسجد اقصیٰ کی آزادی کی طرف پہلا قدم ہے۔” ترک صدر کا یہ فیصلہ کئ سیکیولرز کے سینوں پر مونگ دلنے کا باعث بنے گا لیکن انشاء اللہ آیا صوفیہ میں دی جانے والی آذانیں مسلمانوں کی بیداری ، فلاح اور کامیابی کے نتائج لے کے گونجے گی۔ کشمیر ، فلسطین ، برما ، بوسنیا اور ایسے کئ ممالک جہاں مسلمانوں پر ظلم و ستم کیے جا رہے ہیں۔ یہ کامیابی ان مظلوم مسلمانوں کے لیئے اس بات کی امید ہے کہ انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب کشمیر میں مسلمانوں کی حکمرانی ہوگی ، جب قدس اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ اور سفاکی سے آزاد ہوگا ، جب پوری دنیا میں اسلامی نظام کا نفاذ ہوگا۔

آسماں ہوگا سحَر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظُلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی

Leave a Reply

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: