سلطان محمد الفاتح کو تو بخش ہی دیجیے! – ڈاکٹر محمد مشتاق

:المورد کے متاثرین سے دو گزارشات ہیں

پہلی یہ کہ آپ یہ تعین کرلیں کہ آپ کو اعتراض اس پر ہے ۔ کہ 2020ء میں میوزیم کو مسجد میں کیوں تبدیل کیا گیا ؟ یا اس پر کہ 1453ء میں چرچ کو مسجد میں کیوں تبدیل کیا گیا تھا ؟ اگر آپ کا سوال یہ دوسرا ہے ، تو براہ کرام اس پر 1453ء میں رائج قانون کا اطلاق کرکے بتائیے کہ یہ کیسے غلط تھا؟ اور اگر آپ کا سوال یہ پہلے والا ہے تو یہ بتائیے کہ میوزیم کو مسجد میں تبدیل کرنے پر شرعاً کیا اعتراض وارد ہوسکتا ہے؟ نیز 1935ء میں مسجد کو میوزیم بنائے جانے کے عمل پر آپ اعتراض کیوں نہیں کرتے؟

ان سوالات کے جوابات سے آپ کو خود اپنی الجھن دور کرنے میں مدد ملے گی ورنہ کبھی اتمامِ حجت اور کبھی صلح بیت المقدس اور پتہ نہیں کیا کیا کچھ لنگڑی لولی “دلیلیں” لاتے رہیں گے اور ہم کہتے رہیں گے کہ

!نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

دوسری گزارش زیادہ اہم ہے۔ 1453ء میں جب سلطان محمد الفاتح نے قسطنطینیہ فتح کیا تو کسی نے انھیں “قانونِ اتمامِ حجت” کے متعلق نہیں بتایا کیونکہ یہ “قانون” جو شریعت کے ایک بہت بڑے حصے کو “جزیرۂ عرب” اور “مشرکینِ عرب” کے ساتھ خاص کردیتا ہے ، ابھی کسی نے دریافت ہی نہیں کیا تھا ۔ یہ قانون تو انھوں نے دریافت کرنا تھا جنھوں نے اس فتح کے تقریباً پانچ سو سال بعد پیدا ہونا تھا اور تب تک امت نے اس سے غافل ہی رہنا تھا۔

اس لیے عاجزانہ درخواست ہے کہ “قانونِ اتمامِ حجت” کے عدمِ فہم اور اس کی سنگین خلاف ورزی پر سلطان محمد الفاتح کو تو بخش ہی دیجیے۔ وہ مجھے ملے تو میں انھیں بھی کہہ دوں گا کہ آئندہ “قانونِ اتمامِ حجت “کی کوئی خلاف ورزی ہرگز نہ کرے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: