وجاءالحق وزھق الباطل – بنت آفتاب احمد

الحمد لله ثم الحمد للہ ……! آیا صوفیہ مسجد چھیاسی سال بعد اذان کی صداؤں سے گونج اٹھی …… سلطان محمد فاتح نے بائیس سال کی عمر میں قسطنطنیہ فتح کیا اور وہاں پر سمندر کے کنارے آیا . صوفیہ کی عمارت کو مسجد میں تبدیل کیا. یہ فیصلہ بغیر کسی زور زبردستی اور جبر کے کیا گیا .

تقریبا پانچ سوسال تک مسجد آباد رہی . پھر کمال اتا ترک نے اس عمارت کو میوزیم بنانے کا فیصلہ کیا . 1935ء میں یہ مسجد میوزیم بنادی گئی . یہ سیکیولرزم اور لبرلزم کی نحوست تھی کہ حرمین شریفین کے بعد مسلمان اس مسجد سے بھی محروم ہوگۓ . سلام ہو رجب طیب ایردگان پر ….! کہ انہوں نے اس مسجد کا کیس عدالت میں پیش کیا اور جیت حق کی ہوئی .

“وجاءالحق وزھق الباطل”

اس طرح کل مسجد میں نماز ادا ہوئی . سلطان محمد فاتح کو بہت بہت مبارک انکی روح کتنی خوش ہوگی . إن شاء الله بابری مسجد کا بھی دن آئیگا . قرآن پاک میں ارشاد ہے …… جس کا مفہوم ہے کہ مایوس نہ ہوں اللہ کی رحمت سے …….. معلوم ہوا کہ نعمتیں چھن جانے کے بعد دوبارہ مل سکتی ہیں مل جاتی ہیں ۔ بس اللہ پر کامل یقین ہونا ضروری ہے۔ اللہ پاک سے دیا ہے کہ ہم سے جو نعمتیں ہمارے گناہوں کے باعث چھن گئ ہیں ہماری خطائیں معاف فرمادے . ہمیں ان نعمتوں سے دوبارہ سرفراز فرما دے ۔آمین۔

Leave a Reply

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: