أفلا تتفكرون – آمنہ صدیقی

آج طبیعت کچھ افسردہ سی تھی ……. معلوم نہیں کیوں!؟
اور شاید اسی بوجھل طبیعت کو دیکھ کر نماز فجر کے بعد بہن زبردستی گھر سے قریب پارک میں لے آئی تھی۔۔

جہاں پر سورج کی کرنوں کا استقبال کہیں چڑیوں کی چہچہاہٹ کر رہی تھی تو کہیں پھول اپنی مہک کو فضا میں گھولتے ہوئے اس کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ غرض چہار جانب بادِصبا صبح کی آمد کی خوشی میں موسم کو تازگی بخش رہی تھی ……. انسان جب قدرت سے اتنا قریب ہوتا ہے تو اس کی مشاہدے کی آنکھ خود بخود کھل جاتی ہے۔۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ قدرتی زندگی، انسانی زندگی کا عکس ہوتا ہے جو بھٹکے ہوئے کیلئے راستے کی نشاندہی کرتا ہے۔۔۔ پھر خدا بھی کہتا ہے،

أفلا تتفكرون …….. سو کیا تم غور و فکر نہیں کرتے!؟؟
غور کرنے کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں۔۔اور آج ایک عجیب پہلو پہ میری سوچیں اٹک گئیں . میری نگاہوں کے حصار میں سامنے کھڑا سبز درخت تھا جسے موسم بہار نے پھولوں سے سجا دیا تھا۔۔یہ کہنا بھی غلط نہیں کہ آج کل اس باغ کی خوبصورتی انہیں رنگ برنگے پھولوں سے تھی۔ مگر میں اس خوبصورتی کو نہیں دیکھ رہی تھی۔۔ایک دوسرے نظام قدرت نے میری توجہ کو اپنی قبضے میں لے رکھا تھا۔۔۔
کوے کی ایک جوڑی ناجانے کس پریشانی میں درخت کے اطراف منڈلا رہی تھی۔۔زور زور سے آوازیں بھی نکال رہی تھی۔۔۔
شاید دانہ تلاش کررہے ہوں!؟ کہیں ان کا بچے کو سانپ نے تو نہیں کھا لیا!؟

یا ہوسکتا ہے کھانا نہ مل رہا ہو اور بچہ بھوکا ہو!؟ میں بھی طرح طرح کےا ندازے لگا رہی تھی۔ ابھی تھوڑا وقت ہی گذرا کہ دونوں خاموش ہوگئے ……. شاید دانہ مل گیا!! جو پریشانی لاحق تھی وہ دور ہوگئی!! دونوں اب اپنے گھونسلے کی جانب پرواز کررہے تھے۔۔جہاں پر ان کے بچے ان کے منتظر تھی۔۔چونچ میں دانہ پھنسائے اب بچوں کو کھلا رہے تھے۔ سوچوں نے رخ بدلا۔۔

ان پرندوں کی زندگی ہی یہی ہے ……. اٹھو، کھانے کی تلاش کیلئے نکلو….. کھاؤ……… پھر کسی دن کسی دوسری مخلوق کی غذا بن جاؤ۔ یہ بھی نظام قدرت ہی ہے ویسے ……. مگر یہاں پر ایک الجھن نے جنم لیا۔ ہم انسان بھی تو یہی کرتے ہیں۔ کھالے، پی لے، جی لے۔ اس کو ہی اپنی زندگی کا منشور بنادیا ہے۔۔۔ہم تو اشرف المخلوقات ہیں ….! ہماری زندگی کا مقصد ہر گز ہرگز یہ نہیں ہوسکتا …… پھر کیا ہے انسان کی زندگی کا مقصد!؟ اس الجھن کو سلجھانے کیلئے بہن کی مدد لی۔ تو وہ بولی، “کھانا انسانی زندگی کا مقصد نہیں، بلکہ ضرورت ہے۔۔انسانی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہے۔ کہ اس کا جینا بھی اللہ کیلئے ہو اور مرنا بھی۔۔غرض ہر عمل اس لئے ہو کہ اس کا رب راضی ہوجائے۔ جیسے قرآن میں ہے نہ،

ان صلاۃ و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العلمین …….. اللہ کی رضا کیلئے عمل کیسا ہو؟ کتاب اللہ اور نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ……. اور جو کوئی اللہ کیلئے عمل صالح کرے گا تو وہ کامیاب ہوجائے گا۔ وہ منزل یعنی جنت پالے گا” ، الجھن رفع ہوئی۔ مزید سوچوں کو ذہن میں جگہ ملی۔۔اور عمل صالح بغیر ایمان کے کیوں بے فائدہ ہے۔ اس لئے کہ جو عمل خالصتا اللہ کیلئے کیا جاتا ہے وہی قبول ہوتا ہے اور منزل تک پہنچانے کیلئے بہرہ مند ثابت ہوتا ہے۔ طبیعت اب قدرے بہتر محسوس ہورہی تھی۔ شاید اس لئے کہ اس بھٹکے ہوئے مسافر کو منزل تک کا راستہ معلوم ہوگیا تھا۔۔

دل یہی عہد باندھ رہا تھا رب کے ساتھ کہ زندگی کے آخری لمحات تک اسی راستے پر چلتے جانا ہے۔ اور یہ دعا بھی لب پہ جاری تھی۔۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ الْھُدیٰ وَالتُّقیٰ وَالْعَفَافَ وَالْغِنیٰ……
اے اللہ !بے شک، میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری ،عفت اورلوگوں سے بے پروائی مانگتا ہوں۔۔۔

Leave a Reply

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: