صبح نو کا بیری – سمیرا غزل

وہ میرے لفظوں پہ
ٹوٹا تھا قہر بن کر
مری کتابوں کو اس نے نوچا
مرے قلم کو بڑا رگیدا
خطوں کو میرے تھا پھاڑ ڈالا
کہ سارے مکتوب با ادب تھے
میرے شعروں مرے مضامیں کا سخت دشمن
ادھر سے کاٹا ادھر کو پھینکا
ادھر چھپایا
میرے حرفوں کی روشنائی
بڑا ستاتی رہی تھی اس کو
دیے سے جلتے تھے لفظ میرے
وہ لفظ اس کا تھے دل جلاتے
وہ جانتا تھا
کہ تخت الٹیں گے لفظ میرے
سو ڈر رہا تھا
بپھر رہا تھا
حسد کے شعلے
دل میں اس کے بھڑک رہے تھے
اور کرنے کو خاک مجھ کو
رگ اس کی پھڑک رہی تھی
لفظ میرے
حروف میرے
میرے جملے
میری باتیں
کلیجہ سب کا چبا چبا کر
تھوکتا رہا وہ
اس کی خون آلود خواہشیں
پہنچ سکیں نہ مرے ذہن تک
دل میں بیٹھے ہوئے قلم تک
تو لفظ بن کے اب بھی جگنو
میرے اندر چمک رہے ہیں
بن کے سورج
ابھر رہے ہیں
سنو جہاں تک یہ دل ہے زندہ
اور ذہن باقی
اس کی چالیں ہیں ساری فانی
لفظ باقی
حروف باقی
صبح نو کی ہے دید باقی
روشنی کی نوید باقی

Leave a Reply

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: