چند گزارشات ،بارے مندر مسجد بحث کے – سعدیہ نعمان

پچھلے چند دنوں سے سوشل میڈیا پہ ایک بحث پڑھتے ہوئے چند نکات رکھنا چاہتی ہوں …….. میں اور آپ ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں آئے دن فتنوں کا ظہور ہے …….. غلط اور درست کچھ اس طرح غلط ملط ہو چکے ہیں کہ بندہ حق تک پہنچ ہی نہ پائے اور رستہ کے خم و پیش میں الجھ کے رہ جائے –

جب بھی کوئی تنازعہ سر اٹھاتا ہے اور جہاں دین مزہب ریاست سیاست اور طاقت گتھم گتھا ہوتا دیکھتے ہیں …….. تو ہم کلمہ گو اس بات کو فرض جان کے اس ” جہاد” میں کود پڑتے ہیں اور ہم میں سے ہر کوئی خود کو ” عالم فاضل” جان کے رائے دینا ضروری خیال کرتا ہے یا پھر بنا سوچے سمجھے اندھی تقلید میں اپنے اپنے مکتبئہ فکر کے قائدین کے پیغامات اور سوچ کو پھیلانے لگتے ہیں . اور اس سب میں آپ مجھے بتایئے ، ” عجیب سی نفرت “، ” جزباتیت” ، ” عدم برداشت” ، ” رویوں کی بے اعتدالی” کے عناصر زیادہ نمایاں ہوتے ہیں یا ” دیں سے سچی محبت” ؟ کچھ عمل نکات پہ آیئے …..!

آپ خود کو لبرل جانیں یا دین پسند ، آپ مسلمان ہیں تو آپ کی سب سے پہلی ضرورت ” علم” ہے. دین کا بنیادی علم ……. اگر آپ اور میں اس مرحلہ کو طے کر چکے ہیں تو پھر اگلا قدم اٹھائیے …… ورنہ یہیں رکیے – قرآن پاک تھامیے …… تیس پاروں کا 86 مکی اور28 مدنی سورتوں کا فہم حاصل کیجیئے . یہ یقین رکھیے کہ قرآن زندہ کتاب ہے. قیامت تک کے لئے رہنما – اسے سمجھے بغیر ہماری کسی رائے میں کسی عمل میں کوئی وزن ہو نہیں سکتا – اب اگلا نکتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ، خود سے سوال کیجیے میری محبت سچی اور عملی ہے یا جذباتی……… سیرت کا علم ہے؟ کیا میں سیرت کی روزمرہ اور اسٹریٹجک قدروقیمت سے واقف ہوں کیا مجھے علم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرد سے ریاست تک کے معاملات طے کرتے ہوئے کیا رویے اپنائے ہر معاملہ میں سنت نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیا ہے ….؟ اگر علم ہے تو سبحان اللہ ! اگر علم نہیں تو آج سے ہی سیرت پاک کا مطالعہ اپنی روٹین میں شامل کیجئے .

دین کا بنیادی فہم حاصل ہو جائے ……. تو اپنے سے بہتر جاننے والے علمائے حق کو تلاشئے اور ان سے جاننے کی کوشش کریں…… Shallow thinking کی بجائے مثبت سوچنا شروع کیجیے معاشرے کو ایسے مثبت اور باعمل لوگوں کی ضرورت ہے .جو خاموشی سے کام کرنے اور نتیجہ تک ڈٹے رہنے کے عادی ہوں – متنازعہ امور میں خود کو مت الجھایئں آپ کا وقت اور صلاحیتیں قیمتی ہیں .سوال اٹھیں تو جواب کے لئے سوشل میڈیا پہ رجوع کی بجائے علمائے حق سے جواب لیجیئے …….. ان کی صحبت اختیار کریں . ان کی معیت میں وقت گزاریں .دین سیکھیں …….. دین سیکھنا پڑتا ہے . دین سیکھے بغیر سمجھے بغیر ہم ایک ریوڑ تو بن سکتے ہیں ، جو ہر موقع پہ بے سمت ہو کے ادھر ادھر منہ مارنے لگے لیکن ہم ایک امت اور ایک قوم نہیں بن سکتے . لہذا اپنے حصہ کا کام احسن انداز میں کرنے کے لئے آپ کو علم کے جن ہتھیاروں کی ضرورت ہے . اس سے خود کو لیس کیجیے – پھر آپ پہ یہ انکشاف بھی ہو گا کہ ہمیں کن کن سازشوں میں پھنسایا اور الجھایا جاتا ہے . کس طرح نان ایشوز کو ایشو بنایا جاتا ہے اور کس طرح ہم اس جال میں پھنس کے اپنی حمیت اورغیرت کھو دیتے ہیں .

آنکھیں کھولئے اس سے پہلے کہ آنکھ بند ہو جائے – ایک بات یہاں سمجھنے کی اور ہے ، جو میں بالخصوص اپنے نوجوانوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ ایک نکتہ سمجھیں …….. سویٹزر لینڈ کی وزیراعظم نے مسجد حملہ پہ جس طرح مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیا. اس کی ہم سب نے تعریف کی …….. اب اگر برطانوی پارلیمنٹ میں یا کسی گرجا گھر میں یا سویٹزر لینڈ کے اجلاسوں میں قرآن کریم کی تلاوت گونجتی ہے تو بلاشبہ اسے رب کی رحمت جانیے کہ وہ اپنے ذکر کو بلند کرنا جانتا ہے ، لیکن ……. اس پہ یہ سوچ آنا ہرگز درست نہیں ہے کہ ” کیا ہم میں اسقدر ظرف ہے کہ ہم ان کی کتاب کی تلاوت اپنے کسی اجلاس میں کروایئں-”

کیونکہ یہ قرآن اور اسلام ہی کا حق ہے کہ اسے پھیلایا جائے….! باقی سب مذاہب اس کے آنے پہ ختم ہو گئے . ہاں اگر کوئی اپنے دین پہ قائم رہنا چاہتا ہے تو اسلام میں زبردستی نہیں ہے . لیکن ایک اسلامی ریاست میں دوسرے مذاہب کے پیروکار اقلیت ہونے کے ناطے اپنے مذہب پہ چلنے میں اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے کے معاملہ میں آزاد ہیں اور اسلامی ریاست انہیں تحفظ دینے کی ذمہ دار ہے ….. لیکن وہ اپنے مزہب کی تشہیر اور تبلیغ نہیں کر سکتے ……. اور بہت بار ایسا ہوا ہے کہ مشکل کے وقت میں مسلمانوں نے اپنی مساجد کے دروازے غیر مسلموں کے لئے کھول دیے .انہیں پناہ دی ان کی امداد کی . ہمیں ان سے ہمدردی رکھنے اور انہیں دیں حق کی طرف لانے کی پوری کوشش کرنی چاہیے اس میں کردار و عمل سے تبلیغ سب سے اہم ہے.

میرے عزیزو ………! ” اسلام ” مکمل کامل بر حق دین ہے . جس کو غالب ہو کے ہی رہنا ہے . اس کی سچائی پہ اکملیت و کاملیت پہ یقین رکھئے . ان الدین عنداللہ الاسلام (سورہ آل عمران 19) ……
بس میں اور آپ کہاں کھڑے ہیں اس پہ غور کرنے کی ضرورت ہے .

Leave a Reply

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: