وہ شخص اب یان نہین ملےگا – قدسیہ ملک

سید منور حسن صاحب ہسپتال میں ہیں ۔ کل صبح تک بہتری کی طرف تھے اور امکان تھا کہ گھر شفٹ ہو جاتے ۔ گھر پر تمام ضروری انتظامات بھی کر لیے تھےلیکن کل دوپہر سے انھیں تکلیف بڑھ گئی اور رات انہیں آئی سی یو میں داخل کیا ہے۔ دوائیں اور ضروری علاج کیا جارہا ہے۔ ان شاءاللہ انفیکشن کم ہوتے ہی آئی سی یو سے واپس آجائیں گے۔ وہ وینٹیلیٹر پر نہیں ہیں۔ البتہ آکسیجن فراہم کی جارہی ہے۔ دعاوں کی درخواست ہے۔ تحریکی ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم مستقل نگرانی اور رابطے میں ہے۔ کراچی کے فزیشن پروفیسر سلیم اللہ صاحب ان کے معالج ہیں۔ سید صاحب کی صحت کے لیے جو ممکن ہوا انشاءاللہ کیا جائے گا۔ اللہ تعالی ہمارے سید صاحب کو شفائے کاملہ عاجلہ عطا فرمائے۔ آمین …… ڈاکٹرواسع شاکرنائب امیر جماعت اسلامی کراچی

11 جون کو ہر واٹس اپ گروپ اس پیغام ہی سے متعلق خبریں دے رہاتھا ……… سید منور حسن کافی عرصے سے بیمار تھے لیکن انکی بیماری کی شدت اتنی بڑھ جائے گی اسکا اندازہ ہمیں اس پیغام کے بعد ہوا۔ ایک انجانا سا خوف دل میں پیداہوا ۔ دل ہی دل میں اس لمحے دعا کی کہ یا اللہ ….! ہمارے اکابرین اور مخلص ترین محب وطن اسلام پسند رہنماوں کا سایہ ہم پر قائم رکھ۔ …….

ایسے بہادر اور ظالم کو اس طرح للکارنے والےلوگ ویسے بھی ناپید ہوتے جارہے ہیں ۔ وہ موجود ہیں ۔ اسی ڈھارس اور بھروسے پہ بندہ بڑے بڑے کام نمٹالیتاہے۔ کسی بڑے قول و فعل کو جب سب ہی اپنے طنز و مخالفت کا نشانہ بنارہے ہو انہیں اس بات کا یقین ہوتاکہ کوئی تو ایساہے جو رب تعالی کے بعد ہمارا سہاراہے۔ ہم ببانگ دہل یہ بات کہتے ہیں کہ ہماری جماعت کی ہر لحظہ ظالم کو للکارنے و مظلوم کی مدد کے لئے سینہ سپر ہونے والی تمام کی تمام خصوصیات ایسے ہی بےتیغ ، دلیر ، نڈر اور مخلص ترین رہنماوں کی بدولت ہی ہم تک پہنچی ہیں۔لیکن 26 جون کا سورج ایک سینکڑوں سوگوارون میں اضافہ کرنے والا ثابت ہوا ۔اللہ سید صاحب کو غریق رحمت کرے ….. ہم نے مختلف ادوار اورمختلف شعبہ ہائے زندگی کےافراد سے انکے تاثرات لینے کی کوشش کی ہے۔

مشہورصحافی کالم نگاراحسن کوہاٹی عرف سیلانی کہتے ہیں ، ” سید منور حسن دنیا سے بے نیاز تھے . انہوں نے اس وقت اسلامک فاونڈیشن جیسے بڑے با وسائل ادارے کی برطانوی پاونڈز کی پرکشش تنخواہ کو ٹھکرایا . جب وہ محض 250 روپے ماہانہ کی تنخواہ لے رہے تھے .
دوست سعید عثمانی بتاتے ہیں کہ یہ نعمت اللہ صاحب کے گھر کی چھت پرسرونٹ کوارٹر نما دو کمروں کے مکان میں رہتے تھے . جس میں باورچی خانہ بھی نہ تھا ایک کونے میں چولہا برتن رکھ کر باورچی خانے کا کام لیا جاتا تھا اور انکے دوست انکے گھر جاتے ہوئے راستے سے برف خریدنا نہ بھولتے تھے کہ سید کے گھر میں ریفریجریٹرنہ تھا . کم لوگ جانتے ہیں کہ ان کے بیڈ روم میں ایر کنڈیشنڈ زندگی کے آخری دنوں میں اس وقت لگا …… جب انکی کمر بستر سے لگ گئی . ڈاکٹروں نے حبس زدہ کمرے میں ایرکنڈکشنڈ کو مریض کے لئے ضروری قرار دیا . ایسا قناعت پسند صابر شاکر کھرا انسان اب سیاست میں کہاں دکھائی دیتا ہے .آجکل احتساب اور خود احتسابی کا بڑا شور ہے سید صاحب کی زندگی پر نظر ڈالیں تو خود احتسابی کے معنی سمجھ آتے ہیں .انہوں نے گھر بنانا تھا ……. ہاتھ تنگ تھا مجبوراً دوستوں سے قرض لینا پڑا قرض لینے کے بعد سید صاحب نے جماعت اسلامی کی شوریٰ میں اپنے اثاثے ڈیکلیر کرتے ہوئے بتایا کہ میرے اکاؤنٹ میں یہ جو رقم ہے یہ دوستوں سے قرض لی ہوئی رقم ہے جو کہ گھر بنانے کے لئے لی . بعد میں جب قرض کی رقم چکا دی تو بھی شوریٰ کو آگاہ کیا کہ الحمدللہ ! قرض چکا دیا . اب ایسے افسانوی کردار کے لوگ کہاں ملیں گے سید صاحب سراپا روشنی تھے تمام عمر تاریکیوں سے لڑتے ریے انہوں نے کبھی ظلمت شب سے شکوہ نہیں کیا بلکہ اپنے حصے کی شمع جلا کر اندھیروں کے لئے چیلنج بنے رہے۔

مختلف کتب کے مصنف اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ فیروز احمد سمیع کہتے ہیں، “گرچہ بہت قریب سے ہم ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ تاہم مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں اپنے گھر سے بذات خود گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے نارتھ کراچی رقیہ فردوس صاحبہ کے گھر افطار لیکر جارے تھے….. ‘ مین سڑک تھا’. اس وقت ان کی نورانی چہرے کے تاثرات آج تک یاد ہے۔ اسی طرح منصورہ لاہور میں قیام کے دوران (2000ء) فجر کی نماز میں شریک ہونے کی صورت میں ان کی قرآن فہمی وقرت سے اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہ تھا کہ انہیں اس کتاب سے کس قدر والہانہ لگاؤ ہے۔ اسی طرح جب میں جماعت اسلامی کے امیدوار رکنیت میں زیر تربیت تھے تو ہمارے ماہانہ اسٹڈی سرکل کی کلاسیں خود باقاعدہ طور لینے کا کہا اور کئی ماہ یعنی کئی کلاسیں بھی لئے۔

یہ ماہانہ امیدوار رکنیت کی کلاسیں نارتھ ناظم آباد کے جماعت اسلامی کے دفتر بلاک ایل میں ہوا کرتے تھے( یہ غالباً 1984 کی بات ہے ) اور اس میں کئی نامور شخصیات بھی اس دوران امیدوار تھے۔ جس میں طاہر خان،زاہد عسکری ، چوہدری عبد الحمید وغیر، مجھے یاد ہمارے نوٹ کاپی دیکھی اور اسے سب سامنے کافی سراہا۔ اسی طرح مظفر احمد ہاشمی کے دفتر جب میں ان کے آفس سیکرٹری کے عہدے پر کام کر رہا تھا، کئی ملاقاتیں رہیں۔ بہرحال ایک سادہ دل انسان اور اپنے رب سے مربوط رشتوں سے منسلک رہے۔ اور ان کی سچائی کی پہچان تو وہی ہے’ اسامہ بن لادن کے بارے میں ان کے جو تاثرات تھے۔ ایک سچا انسان سچائی کو ضرور پہچانتے ہیں۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جو ظاہر اور باطن میں’ یکساں تھے۔ ورنہ یہاں کون ہے’ عہدے سے دستبردار ہونا تو گوارا کرے لیکن اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹے۔ اور اپنے نقطہ نظر کو اخری وقت تک پکڑے رہے۔

ان سے 50 سالہ برادرانہ تعلق رکھنے والے مزدور رہنما سید ابوالاعلی مودودی کے قریبی ساتھی مولانا محمد عبدالعزیز کےفرزندمحمد عبدالملک کہتے ہیں ، اسم بامسمٰی , اجلا , اجلا , سفید پوش , اندر اور باہر سے ایک.ڈر تو منور حسن سے ڈرتا تھا۔وہ صبح منور شام منور تھے

جورکےتوکوہِ گراں تھے ہم،جوچلے وجاں سےگزرگئے
رہِ  یار  ہم  نے  قدم  قدم  تجھے  یادگار  بنا  دیا

وہ بولتے تو سارے مجمع کے دل و دماغ ان کی مٹھی میں ہوتے۔ وہ الفاظ بولتے نہیں انہیں یادگار بنادیتے تھے۔ دوران خطابت کبھی جھرنا, کبھی چنگھاڑتا, شور و تلاطم دریا , کبھی اتنے وسیع ہوجاتے لیکن اوجھل کبھی نہیں ہوتے۔ خوف کیا ہوتا,اس کا مفہوم سید صاحب کو دیکھ کر اور سن کر آیا۔ ہم سید صاحب, تم سے محبت کرتے تھے،کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔اے میرے رب سید منور حسن کے فیض کو جاری رکھنا ۔ جنازےمیں بھی وہاں موجود تھا اور میرے چاروں بیٹے و داماد بھی۔ سیدی مرتے دم تک ہم نے آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ تا قیامت کبھی ایک انچ بھی آپ کے چھوڑے ہوئے نقوش پا کو فراموش کریں گے۔ آپ سے پہلے، آپ کا مشن جو میرے باپ مولانا محمد عبدالعزیز کا مشن تھا، ہے اور رہے گا. ان شاءاللہ

آپ کی کبھی سخت کبھی الفت و محبت بھری ڈانٹ بھی سنی اور اس سےاپنے ایمانی ولولے کوجلابخشی, کبھی تحسین بھری نگاہیں اور عقابی انداز سے حرارت پاٸی . میں پورے شعورمیں آپ سے پانچ دہاٸیوں سے ولولہ تازہ ، ٹکرانے کا جذبہ اور مزاحمت کا ہنر جانا ہے . وہ میرے پورے خاندان کا قابل فخر, متحرک قاٸد اور جرات کا استعارہ تھے . ہم بالیقین کہتے ہیں اوررب کی رحمت سے یہ امید رکھتے ہیں کہ تمہاری مسکراہٹ ہی قبر کی پہلی منزل کو منور کرگٸی ہوگی۔ نہ دبنے والا, نہ جھکنے والا , نہ اقتدار کو خاطر میں لانے والا , وہ تو دھیما بھی اور سرعت بھی , چاند کی ٹھنڈک اور چکا چوند کرنے والی بجلی استعمار اور طاغوت کے خلاف , ہمہ وقت , ہمہ تن , ہوشیار و بیدار, ہم دل تیار مرد مومن ، مرد مجاہد ، نرم دم گفتگو ، گرم دم جستجو کے مصداق کفار کے حلقوں میں بے چینی پھیلانےوالے

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

کی عملی تصویرتھے…… سیدی ہمارے دل رورہےہیں۔ لیکن ہم رضائے الہی پرراضی ہیں ۔ ہم نے احترام ، دلفگار اور نم آنکھوں سے تمہیں رب ذوالجلال والاکرام کے حوالے کرتےہیں۔

ریمندڈیوس …….. ایک امریکی اہلکار جو لاہور میں تعینات امریکی ذیلی سفارتخانے کا ملازم تھا ، جس نے 27 جنوری 2011ء کو مزنگ لاہور کی سڑک پر گاڑی چلاتے ہوئے دو موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کو گولی مار کر قتل کر دیا. ڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونے ایک نوجوان کی بیوہ نے انصاف فراہم نہ ہونے کے سبب 6 فروری کو احتجاجاً خود کشی کر لی ریمنڈڈیوس پر نہ کوئی مقدمہ چلا نہ کوئی دیت ادا کی اور باآسانی رہائی ہوگئی. سابق پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برطرفی کے بعد اعتراف کیا کہ ریمنڈ ڈیوس کو سفارتکار کا درجہ حاصل نہیں ۔ وہ ایک تجربہ کار جاسوس کے طور پر کام کررہاتھا۔رہائی کے فوراً بعد امریکی ریمنڈ ڈیوس کو بذریعہ ہوائی جہاز افغانستان اور پھر امریکہ روانہ کردیا گیا۔ رہائی کے بعدوہ کتاب جس میں وہ لکھتاہے……..

جس وقت پاکستان کا صدر وزیراعظم آرمی چیف حتّی کہ ڈی جی ISI بھی میری رہائی کے حق میں مہم چلانے اور مجھے بحفاظت رہا کروانے میں پیش پیش تھے تو اسوقت یہی ایک 70سالہ بوڑھا منوّرحسن تھا ، جو میری رہائی کیخلاف پورے پاکستان میں آگ لگانے کے درپے تھا اور سچ بات یہ تھی کہ ISI چیف کی حمایت سے زیادہ مجھے اس بوڑھے کی مخالفت سے ڈر لگ رہا تھا ۔ جیل میں کوئی بھی باریش شخص آتا تو مجھے دھڑکا لگ جاتا کہ کہیں یہ اس بوڑھے کی پارٹی کا حلف یافتہ کارکن نہ ہو۔ غیرت فروشوں کے اس بازار میں کوئی تو تھا جسکی بےباکی سے دشمن لرزاں تھا یہی وجہ ہےکہ ریمنڈدیوس نے اپنی کتاب کے سرِوق پر جماعت اسلامی کے مظاہرے اور جماعت کے جھنڈے کو نمایاں کیا ہے۔

نوجوان مقرر اور ایچ آر پروفیشنل محمد اطیب سید صاحب کے بارے میں کہتےہیں، “زمانہ طالبعلمی میں مقرری کا شوق ہونے کی وجہ سے لڑیچر اور تقاریر سے خاص شغف رہا ۔ ہمیشہ سے سید منور حسن کی گفتگو کو رہنماء پایا۔ انگریزی زبان پر بھی کمال ملکہ حاصل تھا۔ آواز کا زیر و بم، الفاظ کا چناؤ، دلائل کی کاٹ سے لے کر قلم کی نوک تک ہر جگہ منور صاحب سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ آج بھی اُنکے الفاظ مشعل راہ ہیں اور آج بھی تحاریر تحریک اسلامی کے کارکنان کے جذبات کو مہمیز فراہم کر رہی ہیں۔ جب بھی جمعیت کی سرگرمیوں کی دعوت دینے کے لئے یا کسی بھی کام سے اکیڈمی جانا ہوا ہمیشہ مشفق رویے اور لطیف مزاح سے مزین منور صاحب کو زندہ دل پایا۔ اللہ تعالی ہمیں بھی اپنی صلاحیتوں کے ذریعے حق کی ترویج کی توفیق فرمائے”

بلاگر سوشل میڈیا ایکٹویسٹ اور جی این این کاپی ایڈیٹررضی اللہ خان سید صاحب کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہیں ۔” سیدمنور حسن میں منفرد کیا تھا؟پہلے بائیں بازو (این ایس ایف) کو ٹاپ سے لیڈ کرنا۔تو پھر دائیں بازو (جمعیت، جماعت) کو بھی ٹاپ سے لیڈ کرنا ….. وہ سرخے تھے تب بھی نظریاتی تھے۔ اور جماعتیے بنے تب بھی اتہائی نظریاتی رہے۔دو طرفہ لٹریچیر انہوں نے گھول کر پیا ہوا تھا۔ انکی گفتگو انٹیلیکچولز کی گفتگو ہوتی تھی۔راستہ بدلا تھا تو کچھ پڑھ کر بدلا تھا ۔ بائیں سے دائیں آتے ہوئے کسی سیاسی و ذاتی مفاد کو سامنے نہیں رکھا ۔برسوں سیاست میں گزار دیے ۔ مرتے وقت تک کوئی الزام نہیں ہے۔ سید دہلی سے ہجرت کرکے کراچی آنے والے ایک جینیئن مہاجر تھے۔ انہوں نے ساری زندگی نسلی و لسانی تعصب کے خلاف جہدوجہد میں گزاری۔وہ جماعت اسلامی کے امیر رہے ۔ اپنے بعد اپنی اولاد کو جانشین مقرر کرکے نہیں گئے۔

شاعرہ ، کہانی مضمون افسانہ نویس تخلیق کار ذہن کی مالک سمیرا غزل اپنے تاثرات لکھتی ہیں……..
سیدی! لوگ کہتے ہیں کہ آپ چلے گئے نہیں میں کہتی ہوں کہ آپ دلوں میں دماغوں میں نظاروں میں زندہ ہیں۔فاطمہ کے علاوہ آپ کی بے شمار بیٹیاں ہیں طلحہ کے علاوہ بے شمار بیٹے ہیں جو آپ کے مشن حنیفی کو تھامے ہوئے ہیں جن کی نظریں مقصد پر گڑی ہیں کہ آپ نے انھیں یہی سکھایا آپ ان سب کی صورت زندہ ہیں۔آپ شہید ہوجانے والوں کے نقش پا اور ان کی اولاد کے اچھے اعمال کی صورت میں زندہ ہیں دیکھیے سیدی ٹہل رہے ہیں۔ دیکھیے سیدی جنت کے بالا خانوں سے جھانک کر اپنے سپاہیوں کی پیشانی پر بوسے ثبت کر رہے ہیں۔وہ دنیا میں اپنے بنائے کرداروں میں زندہ ہیں۔جنت میں خدا کے ناز و نعم میں تابندہ ہیں۔کون کہتا ہے سیدی نہیں رہے۔بڑا آدمی رب کی جنت میں بڑے مقام پر فائز ہوگیا ہے سیدی زندہ ہیں راہ خدا پہ چلتے چلتے جان سے گزرنے والے مرتے نہیں ہیں بات بس اتنی ہے کہ وہ اپنی نذر پوری کر چکے۔ سچ ہے وہ اپنے قبیلے کا آخری شخص تھاجو بقول نعیم صدیقیؔ اب یاں نہیں ملےگا

نہیں وہ موجود گو بظاہر جگہ جگہ ہے سراغ اس کا
وہی ہےساقی,اسی کی محفل ایاغ اس کا، چراغ اس کا
ہزاروں دل ہیں کہ جن کےاندرجھلک رہاہےدماغ اس کا
نہ روئواس کوکہ جلوہ فرماوہ کہکشاں تابہ کہکشاں ہے
فرازِجنت کےسبزہ زاروں میں رونق بزم قدسیاں ہے
ہوا  مقرب وہ  انبیاؑ  کا وہ  آج ، مخدوم  نوریاں  ہے
وہ شخص اب یاں نہیں ملے گا…..!

Leave a Reply

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: