وہ یہیں سے لوٹ جائے جسے زندگی ہے پیاری – افشاں نوید

ملک میں اسلامی نظام کا قیام تو انہوں نے بھی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ……. مدینے کی اسلامی ریاست بھی ان کا خواب ہی رہ گئی .جو نعرے وہ جوانی سے لگاتے تھے ، “انقلاب انقلاب, اسلامی انقلاب”! ان کے نعروں سے کون سا انقلاب آگیا؟

لیکن جو جوانی بھر نعرے لگاتا رہا…… اپنے سینے کو اسلامی انقلاب کی امنگوں سے سجائے رہا . اپنی 50 برس کی شعوری زندگی اس نے ایک مشن کو دے دی ، کیا وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جس نے نہ کبھی اسلامی انقلاب کا خواب دیکھا . نہ نعرہ لگایا …..
نہ اپنی راتیں اس کے لیے قربان کیں نہ دن کا چین ……. نہ کوئی عملی جدوجہد کی اس لیے کہ اس ملک پہ مافیاؤں کا راج ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کچھ نہیں ہونے دیگی۔ یہاں امریکہ بہادر کی مرضی چلتی ہے۔ یہ سب مہرے ہیں جن کو امریکہ الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے۔ اپنا گھر , بچے , روٹی پانی , یوٹیلٹی بلز , انکم ٹیکس , بڑھتی ہوئی مہنگائی , گرتی ہوئی صحت , شوگر بلڈ پریشر …….. ان دھندوں سے باھر نکلیں تو یہ
سوچیں کہ اقامت دین بھی ذمہ داری تھی۔

کارِ جہاں دراز ہے میرا انتظار کر!!!

نماز روزہ کرلی ں, گناہوں سے بچ جائیں ……. یہی بہت ہے اس زمانے میں۔ مہدی موعود آنے ہی والے ہیں۔فکر کی کوئی بات نہیں ۔ جو اللہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ جب اللہ چاہے گا سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لاکھوں زندگیاں مذکورہ راگ الاپتے الاپتے ہی گزر گئیں اور اب بھی اکثریت حالات کا رونا روتی ھے اور مہدی موعود کا انتظار کرتی ہے۔ کل جاتے جاتے سیّدیؒ فضاؤں میں زندہ پیغام چھوڑ کر گئے ہیں کہ ہوگا وہی جو اللہ چاہے گا۔ بس تم اپنے حصہ کا کام کرجانا …….. میں نے جو مشن اپنایا …… زندگی لگا دی ۔ قبول کرنا اس کا کام۔ سوچو بھلا۔۔۔
اور کس کام آنی تھی یہ زندگی …. بات اتنی سی ہے کہ اللہ کو ہم سے نتائج مطلوب نہیں ہیں۔ ہم بس اپنے حصے کا کام کر جائیں۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ جماعت اسلامی کو تہتر برس میں کون سی حکومت ملی؟

جماعت اسلامی کا ووٹ بینک کتنا ہے؟ تو اللہ کے ہاں حساب اپنا انفرادی دینا ہے . منور حسن مرحوم مغفور سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ جماعت کو لوگوں نے ووٹ کیوں نہیں دیے؟ یہ سوال وہاں ان لوگوں سے ہوگا جو دیانت دار نمائندے ہوتے ہوۓ اپنی ذات, برادری,قبیلہ,مفاد کو مدنظر رکھتےتھے۔ منور صاحب سے سوال نہیں ہوگا کہ آپ کو اقتدار کیوں نہیں ملا,؟؟فلاں الیکشن میں قومی اسمبلی کی سیٹ پر کامیاب کیوں نہ پوسکے؟ اس کا جواب ان کے نہیں اوروں کے ذمہ ٹہرا۔ ہم سے یہ سوال ہونا ہے کہ مسلمان ہونے کا کتنا حق ادا کیا۔ کیا کامیابی کا تصور تم بھی اتنا ہی رکھتے تھے جتنا کوئ ھندو,سکھ, پارسی وغیرہ ……. ہم کامیاب ہوں گے اپنا نامہ اعمال دکھا کےکہ۔۔۔

بدلا تو کچھ نہیں مگر….. یہ پیر ہیں جو خاک آلود ہیں ، یہ جسم ہے جو گھلا ہے اس راستے میں ، یہ آنکھیں لایا ہوں جنھوں نے تمام عمر اسلامی انقلاب کا خواب دیکھا۔ طول وعرض کی مٹی گواہ ہے جہاں خاک چھانی۔تیری کبریائی کا پیغام لے کر گیا۔ یہ شکستہ دل ہے جو مضطرب ہی رہا . یہ پیشانی جو سجدوں میں کیا مانگتی تھی، مولا تو جانتا ہے جو لطیفٌ خبیر ہے

اس جدوجہد کی کامیابی کے لیے ، جو بن سکا آخری سانس تک قرض ادا کرکے آیا ہوں ، تو اصل چیز یہی فوز عظیم ہے ……….. دنیا میں اپنے مشن پر ڈٹے رہنا اور سب کچھ لگا دینا…..!

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: