ہمیں ماتهے پر بوسہ دو! – فرحت طاہر

یہ 27 /مئی 2008ء کی بات ہے! مجهے رکنیت کا حلف لیے کچھ ہی ماہ گزرے تهے ……… ادارہ نور حق میں منتظمین اور شعبہ جات کے نگرانوں کی ایک روزہ تربیت گاہ تهی . جس سے سید منور حسن کو خطاب کرنا تها جو لاہور سے تشریف لائے تهے . بڑی عجیب بات کہ کراچی میں اپنا گهر مگر یہاں مسافر! وہ نماز قصر کہاں ادا کرتے ہوں گے ؟ ذہن میں سوال ابهرا !

میں اپنی ڈائری میں تیزی سے ان کی تقریر کے نکات درج کر رہی تهی . اس وقت تک میرے لیے وہ ایک شعلہ بیان مقرر، مدبر اور مدلل سیاست دان اور جاہ و جلال سے بهرپور ایک فرد جنہیں میں عائشہ منور کے حوالے سے جان رہی تهی ……. لیکن ان کاعاشق رسول ہونے کا پہلو جب میرے سامنے آیا تو میں دنگ رہ گئی . انہوں نے سیرت کے حوالے سے بتایا کہ حضرت فاطمہ رض کس طرح اپنے باپ کے ماتهے کا بوسہ دیا کرتی تهیں . یہ بات سنتے ہی مجهے پانچ سال پہلے اپنے والد کی زندگی کی آخری شام یاد آگئی …….. جب مجهے ان کے چہرے پر اتنی معصومیت نظر آئی کہ بے اختیار ہوکر ان کے ماتهے اور گالوں پر بوسے کی بهرمار کردی . اسے محض اپنی جذباتیت سمجهی تهی اور آج یہ جان کر یہ سنت رسول ہے ! میں اپنے آنسو نہ روک سکی کہ نادانستگی میں ہی اتنی بڑی سنت کی سعادت ملی! میرے ان غیر اختیاری بوسوں نے زندگی بهر کی محرومی کا ازالہ کردیا ہو شاید!

ہم برصغیر کے لوگوں کی آشنائی محض بچوں کے ساته شفقت بهرے بوسوں سے ہے ! اس کے علاوہ سرعام بوسہ بازی مغربی کلچر سمجهتے ہوئے معیوب ہی سمجهتے ہیں . یہ ہی وجہ ہے کہ جب مشرق وسطی سے تعلق رکهنے والی بهائی کی اولادیں جب ہمارا بوسہ لے کر نڈهال کردیتیں تو ہم اسے عرب کلچر سمجهتے! اورسید منور حسن نے جب یہ سنت یاد کروائ تو اس کے پس منظر سے واقفیت ہوئی…

ہمیں ماتهے پر بوسہ دو کہ ہمیں تتلیوں کے جگنووں کے دیس میں جانا ہے ……….

یہ محض شاعرانہ تعلی نہیں ہے .ایک تعلق ہے جو بچهڑنے والے سے بنتا ہے .خواہ یہ زمانہ ہو یا فرد ! ہر بیٹی کے لیےاس کا باپ ابتدائی ہیرو ہی نہیں ہوتا تاعمر ہیرو رہتا ہے …آج منور حسن کی نسبی اولاد فاطمہ کے ساته ساته ان کی نظریاتی بیٹیاں اور بہنیں بهی دکهی دل کے ساته ان کو الوداع کہہ رہی ہیں کہ اب روز قیامت ہی ملاقات ہوگی ان شاء اللہ !

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: