سید کا مشن – رابعہ بی بی

داعی کا کردار اس کی دعوت ہوتی ہے . تاریخِ اسلام میں کردار نے اس زمین پر کئی شجر بوئے . جن کے سائیوں میں امت رہنمائی حاصل کرتی رہی اور اقامتِ دین کے لیے جدوجہد کا کام کرتی رہی ۔ ان سایہ دار شجروں سے علم و اسلامی کے نظریات پیھلتے رہے اور ان نظریات کی روشنی میں دنیا فیض یاب ہوتی رہی ۔

رفتہ رفتہ پختہ اسلامی و فکری نظریات رکھنے والے افراد بوڑھے ہوتے گئے . بظاہر وہ اس زمین پر کئی بیج دبا گئے …… جس سے امت رہنمائی حاصل کرے لیکن ان بیجوں سے بننے والے درخت …! آج کی تاریخ میں صحیح اسلامی و فکری نظریات پر قائم نہ ہوسکے . یہ درخت بظاہر تو شاخیں اور پھول پھل رکھتے ہیں لیکن درحقیقت بغیر خوشبو کے پھول اور بغیر زائقے کے پھل ۔۔۔۔ وہ سیدی مرشدی بوڑھا شجر آج اس زمین کو سپرد کر دیا گیا اس زمین کو یہ سونا سپر د خاک کر دیا گیا ۔ لیکن وہ ورثے میں امتِ مسلمہ کے لیے ایک اصل اسلامی و فکری نظریہ چھوڑ گیا. یہ بوڑھا شجر اپنی زندگی میں کن نظریات پر کھڑا رہا اس کے نظریات کی بنیاد کیا تھی؟ وہ کون سا اسلامی فکر و نظریہ لیکر اٹھا؟؟

وہ کس دین کی بات کرتا تھا ؟ وہ کس شریعت کی بات کرتا تھا ؟ وہ اپنے ان عزائم پر ڈٹا رہا ۔ وہ جھکا نہیں ۔ سوچنے اور پرکھنے کی بات ہے سید ی مرشدی ہمارے قائد آج کی امت کے قائد اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے ۔ یہ قائد قرآن سے کیا پڑھتے تھے؟؟ قرآن سے کیا چیز تھی جو وہ حاصل کرتے تھے . وہ کیا تھا جن پر ان کے اسلامی نظریات بنے ۔ ہم وہ کیوں حاصل نہیں کر پارہے جو ہمارے قائدین نے حاصل کیا ؟ وقت کی تیز, رفتاری کے ساتھ بڑھتے ہوئے مختلف یہودی ایجنڈے اور دجالی فتنوں کے دور میں صرف نماز اور روزہ کافی نہیں ……. یہ عبادات تو غیر مزہب رکھنے والے بھی ادا کرتے ہیں . فرائض و عبادات سیکھانے کے لیے ہر آرگنائزیشن اقدام کرتی ہے..
زرا سوچئے!!

یہ سیدی کیا کہہ گیا۔ وہ کیا کہتا رہا۔ وہ کس اسلامی نظرے کی دعوت کا الم لہلتا رہا…….. وہ صرف ایک ہی نظریہ تھا ۔ اسلامی انقلاب …….. اسلامی انقلاب ……. قران کے زریعے …….. شریعت کا نفاز ……. شوشلزم ، کمیونزم ، کیپیٹلزم ، تمام ازم سے جداگانہ ایک نظریہ سیدی سے بہت پیار کرنے والے اس زمین پر موجود ہیں درد دل رکھنے والے کتنے ہی روحانی بیٹے کتنی ہی مایئیں بہنیں بیٹیاں ان کی وفات سے رنجیدہ ہیں. یہ وقت غم گین ہونے کا نہیں یہ وقت سیدی کے مشن کو تھامنے کا ہے۔ جس نظریے پر اجتماعیت قائم ہوئ جو نظریہ لاالہ اللہ پر بنا ہےاس نظریے کو تھامنے کو ضرورت ہے ۔ نظریات کو درست سمت دینے کی ضرورت ہے . جب نظریات صحیح راہوں پر استوار ہوں گے . اسلامی انقلاب خود ائے گا ۔ داعی کے نظریات ہی اس کی دعوت ہوں گے

پھر بہت سے سیدی جنم لیں گے . وہ بوڑھا سیدی جنت میں رشک کر رہا ہوگا ۔ مقصد کو تھام لینا اور اس پر قائم رہنا ہی سیدی کا مشن تھا . جب نظریات اسلامی افکار میں ڈھلنے لگیں گے تو اللہ کا دین غالب آکر رہے گا ۔ اور غالب تو اللہ کے دین کو ہی آنا ہے…

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: