نیک لوگوں سے محبت – بنت شیروانی

رواں سال کے عرصہ میں بہت سے علماء ….. دین کی خدمت کرنے والے افراد ، بہت سے اپنے ملک سے محبت کرنے والے افراد ….. تو اپنے جان و مال کو اپنی جوانیوں کو خدا کی راہ میں لگانے والے ، اپنے عیش و عشرت کو قربان کرنے والے افراد بارگاہ الہی میں پہنچ گۓ ہیں ۔ مفتی نعیم….. طارق عزیز اور سید منور حسن تو اسی ماہ میں وفات کر جانے والے افراد ہیں۔

ہم زندہ رہنے والے تمام افراد ہی کے دل بوجھل ہیں ۔غم کی کیفیت میں مبتلا ہیں ۔ ایک خوف بھی ہے تو پریشانی بھی ….. ان افراد اور ان تمام جانے والے علماء حق کی داستانیں پڑھو اور سنو تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ان کے جنازے دیکھو تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں ۔ ان کی زندگیاں دیکھو تو رشک کرنے کو دل کرتا ہے …… اور ان ساری چیزوں کے ساتھ کبھی اپنا آپ بے بس و لاچار بھی محسوس ہوتا ہے۔کبھی لگتا ہے کہ ان کے ساتھ والوں نے ان کے رشتہ داروں نے ان کا ساتھ دیا تو یہ سب کرنے کے قابل ہوۓ ۔ اور اتنے بڑے بڑے کام کر گۓ۔ اپنا وقت و صلاحیتیں اپنے پیدا کرنے والے کی راہ میں لگا گۓ ۔ اگر میں ابھی زندہ افراد کی مثالیں لینا شروع کرتی ہوں تو کبھی ڈاکٹر فرحت ہاشمی تو عائشہ منور…..عائشہ عامر تو ڈاکٹر کوثر فردوس اور ان تمام اور ان جیسی تمام خواتین کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہوں اور تو اور مردوں میں مجھے مولانا طارق جمیل اور سراج الحق جیسے افراد سے عقیدت ہوجاتی ہے۔کہ یہ افراد اپنا وقت،صحت،آرام سب کچھ قربان کۓ ہوۓ ہیں۔

اور میں کہتی ہوں کہ ان سارے افراد کے گھر والوں نے ان کا ساتھ دیا تو آج یہ تمام افراد اتنے اچھے کام کر رہے ہیں۔ بلاشبہ ان تمام افراد کے گھر والوں نے ساتھ دیا ہوگا۔لیکن انھوں نے بھی اپنے گھر والوں کے لۓ کچھ حصہ نکالا ہوگا۔کبھی کچھ دیا ہوگا۔کوئ اچھا جملہ۔کسی گھر کے فرد کی بات پر درگزر۔تو آج ان کے گھر والے بھی ساتھ دے رہے ہیں۔ اچھا پھر مجھے لگ رہا تھا کہ …… میں نے تو ابھی تک کچھ نہیں کیا۔ میں کہاں اور یہ بڑے بڑے افراد کہاں ؟؟؟ اور اس وقت مجھے اس وقت یہ حدیث یاد آئی کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک شخص کسی نیک آدمی سے اس کی نیکی کی بنا محبت کرتا ہے مگر خود اس شخص جیسے اچھے اعمال نہیں کرتا ،ارشاد فرمایا:کوئ مضائقہ نہیں!آدمی قیامت کے روز اسی کی معیت میں ہوگا۰جس سے وہ محبت کریگا ۔ (بخاری)

اور اس کے بعد میں نے سوچا کہ نیک لوگوں سے کم از کم محبت کرنا ہی شروع کر دوں، جب محبت کروں گی، کچھ ان کی زندگیوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کروں گی تو پھر ان جیسا بننے کی بھی کوشش کر لوں گی۔ اور پھر سکون آیا ورنہ تو حقیقت میں یہ جانے والے ہمیں بہت کچھ سکھاگۓ اور بہت سی ناممکن چیزوں کو ممکن کر کے کرنا سکھا گۓ۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: