لاک ڈاؤن اور بچوں کے روز مرہ کے معمولات – عائشہ قریشی

آج صبح خلاف معمول دیر سے آنکھ کھلی تو بڑی حیرانی ہوئی ورنہ چھٹی والے دن تو بچوں نے وہ اودھم مچایا ہوتا ہے کہ شور سے سونا محال ہو جاتا تھا۔۔۔۔۔۔۔ پھر اچانک سے یاد آیا کہ “محترم کورونا وائرس”کی وجہ سے بچے گھروں میں محصور ہو گئے ہیں۔ لیکن گھر میں بھی سناٹا تھا۔

جب گھر میں موجود بچوں کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ بچےسارا دن موبائل فون ہاتھ میں پکڑے ایک کونے میں پڑے رہتے ہیں ۔ مجھے تو بڑی تشویش ہوئی کہ سارا دن موبائل استعمال کرنا……. ان کی آنکھوں کے لیے بہت نقصان دہ ہے ۔ جب انکی ماؤں سے اس بارے میں استفسار کیا تو کہنے لگیں کہ “بی بی پھر تم ہی انکو سنبھال لیا کرو ، جیسی ہی موبائل انکے ہاتھ سے لو تو ایسی جنگ کرتے ہیں کہ الامان الحفیظ!” ، یہ ٹکا سا جواب سن کر میں وہاں سے کھسک گئی ۔ گھر کے کام نبٹاتے وقت بھی دماغ میں اسی بارے میں کھچڑی پکتی رہی ۔ آخر کار بچوں سے ہی اس بارے میں بات کرنے کا سوچا کہ بچوں سے کہیں گے کہ ہم صحن میں چل کر کوئی گیم کھیلتے ہیں ۔ یہ سوچ کر خود کو داد دیتے ہوئے بچوں کی جانب چل دیے ، کہ یہ تو بڑا آسان کام ہے۔جب بچوں سے اس بارے میں بات کی تو ہماری معلومات میں نیا اضافہ ہوا کہ اس “چھ انچ کے شیطان” میں دنیا کا ہر گیم بہ آسانی کھیل سکتے ہیں اور بچے بھی اس کو چھوڑ کر باہر گرمی میں کھیلنے کو راضی نہیں تھے۔یہاں سے بھی ٹکا سا جواب سن کر ہم اپنا سا منہ لے کر چل دیے۔

پھر رات کو سوتے وقت بڑا اچھوتا سا خیال ذہن میں کوندا اور صبح اس پر بطور آخری کوشش عمل درآمد کرنے کا بھی ارادہ کیا۔ صبح جب موبائلز چارجنگ پر لگے ہوئے تھے تو میں نے بچوں کو اپنے خیال سے آگاہ کیا تو ….. وہ بھی تھوڑے سے شدومد کے بعد راضی ہو گئے، کیونکہ میرا خیال جو اچھوتا تھا …….. اور وہ خیال یہ تھا کہ بچوں کو ہر دن کا ایک چیلینج دینا ہے۔اگر وہ اسے پورا کر لیں تو انھیں انعام دیا جائے گا ۔ (انعام کےلیے ہم نے کھانے پینے کی چیزوں سے کام چلا لیا) پہلے دن سب بچوں نے مل کر نماز کا ترجمہ یاد کرنا تھا ۔ بچے پورے جوش سے انعام حاصل کرنے کے لیے تر جمہ یاد کرنے میں مگن ہو گئے ۔ دو گھنٹے تک سب کو ترجمہ یاد ہو گیا تھا ۔ اس دوران بچے موبائل کو بلکل ہی بھول گئے تھے۔ انکی مائیں بھی دلچسپی سے یہ سب دیکھ رہی تھیں ۔ بچے بھی انعام پاکر بےحد خوش تھے۔اگلے دن مصوری کا مقابلہ رکھا۔ اب کبھی کچھ یاد کر نے کا مقابلہ ہوتا ہے تو کبھی کتاب پڑھنے کا۔

آج سارے بچوں نے مل کر ایک پودا لگانا ہے۔ بچوں نے اس میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تو اور بچیوں کو ہلکا پھلکا کھانا بنانا بھی آگیا ہے۔ اور ایک اور چیز ہمارے گھر کے سارے چھوٹے بڑے کیک بیک کرنے میں اتنے ماہر ہو چکے ہیں کہ بیکری کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ، صبح ہو یا شام نت نئی ترکیبوں سے کیک بیک کرتے رہتے ہیں ۔ اور اب تو یہ جیسے بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا ہے۔ اب ہمارے گھر کے بچے لاک ڈاؤن میں بھی گھر بیٹھ کر ہر روز کچھ نیا سیکھ رہیں ہیں۔موبائل تو وہ اب بھی لیتے ہیں لیکن اب اس میں یا تو کیک بیک کرنے کی ترکیب دیکھتے ہیں یا تو کسی اور چیز کی ……. بچوں کو موبائل سے دور رکھیں کبھی کبھی کی بات الگ ہے!

ہمارے یہاں تو بچوں کے ہاتھ میں سارا دن موبائل ہوتا ہے۔میں تو کہہ رہیں ہوں کہ آپ میرا مشورہ مانیں اور میرا اچھوتا خیال اپنے گھر کے بچوں پر آزما کر دیکھیں۔اور لاک ڈاؤن میں اپنے بچوں کو روز نئی چیزیں سکھائیں۔

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)