روشنیوں کا کراچی کے الیکٹرک کے نشانے پر – ثمن عاصم

کراچی وہ گلدستہ جس میں پاکستان کےہرمسلک، ہر علاقائی زبان کا پھول مہکتا ہے۔۔۔ یہ ماں کی مانند جو اچھے برے حالات میں پریشان حالوں کو اپنی آغوش کی گرمائش دیتا ہے ۔۔ یہ شفیق باپ کی طرح جو بے آسروں کو آسرا نہیں زندگیاں بنادیتا ہے. لیکن آج دکھ و کرب میں ہماری یہ ماں ہمارا یہ باپ مبتلا ہے

اس کی آنکھوں سے چمکنے والی رونقیں چھین لی گئ …….. اس کی آنکھوں سے ٹپکنے والے آنسو خشک کردئیے گئے ۔۔۔ میری مراد بجلی کی عدم دستیابی اور پانی کی غیرمساویانہ تقسیم سے ہے ۔ یہ شہر سخت گرمی میں بلکتا ہے لیکن شہر اقتدار میں بیٹھنے والوں کے ماتھوں پر شکنیں تک نہیں پڑتی ……. یہ شہر اندھیرے میں ڈوبتا ہے لیکن حاکمین وقت اس پر مطمئن ہیں کہ ان کی زندگیاں قمقموں سے بھرپور ہیں۔ ارے صاحب!!! دودھ دینے والی گائے کو چارہ ڈالے بنا یہ امید کرتے ہیں کہ وہ من من دودھ دے ۔۔۔ کیا احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی معاشی شہہ رگ سے بس سب نچوڑ لو ۔ اے پاکستان والوں تم ہی ذرا دیکھ لو یہاں تمہاری شہہ رگ ہر گزرتے دن کے ساتھ دبائی جارہی ہے ۔ کراچی والوں کی آواز حلق سے بھی نہیں نکل پاتی کیونکہ یہاں جنگلوں کی طرح حیوانیت نہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر خوفناک سیاست کا راج ہے ۔۔۔۔

وہ سیاست جس نے کراچی کو کچراچی بنایا ۔۔۔ وہ سیاست جس نے تو کر کہ میں کر کے نعرے لگا کر اسے تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ….. شہر کے لوگوں، صنعتوں کی روشنی کا ٹھیکہ ایک ایسے ظالمانہ ادارے کو دے دیا گیا جس کا مقصد صرف بلنگ کی مد میں نوٹ کمانا ہے۔۔۔ نوٹ کمانے والے اس ادارے کے بروکر کون ہیں؟؟ جی وہی جن کو ہم اور آپ ہر پانچ سال بعد زندہ باد زندہ باد کے نعروں کی گونج میں ڈبے بھر بھر ووٹ دیتے ہیں ۔۔۔ اور بروکری کے منصب پر فائز کرتے ہیں۔ ہم بل بھر بھر کر مر جاتے ہیں مگر ڈبے بھر بھر کر ووٹ بٹورنے والے ہر حال میں ذندہ ہیں ۔رات دن اندھیروں گرمی کی شدت سے بلکتی عوام کا دردیہ اے۔سی کمروں میں رہنے والےاور ویگو اور ہائی لکس گاڑیوں میں سفر کرنے والے کیا جانیں۔ انکے ہاں تو لائٹ چلی بھی جائے تو انھیں معلوم نہیں ہوتا کہ انکی نوکروں کی فوج نے کب بغیر آواز کے جنریٹرز کھول دیئے ۔ بدترین گرمی میں لوڈشیڈنگ بھگتنے والی تو غریب عوام ہے یہ عذاب بھی بھگت لیتے مگر اس بے ضمیر کے الیکٹرک کی غنڈہ گردی تو دیکھیں کہ دو کمروں کے مکانوں کے بھی بیس بیس ہزار بل بھیج کر عوام کا خون چوس رہی ہے۔۔

ستم تو یہ ہے کہ غربت وپریشانی کا مارے کراچی والے جب آئی بی سیز پہنچتے ہیں تو انہیں انتظار کے نام ذلیل و خوار کرایا جاتا ہے ۔۔ ایوریج بلنگ کے نام پر ہٹ دھرمی دکھائی جاتی ہے کہ جی اب تو بل لازمی ہی بھرنا ہے ۔۔۔ کے الیکٹرک کی ڈسی کراچی کی عوام قسطوں پر اکتفا کرکے شکست خوردہ انداز سے گھروں کو جاتی ہے جہاں 24 گھنٹوں میں سے محض 8 گھنٹے ہی بجلی پاتی ہے ۔۔۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو سرکاری تحویل سے نجی تحویل میں دینے کا تک کا سفر ایسا ہی جیسے کالے پانی کی سزا،،،، اس قومی جرم میں شریک وہ تمام سیاسی کارندے جو آج نمائشی ٹسوے بہاتے ہیں عوامی حقوق کی بات کرتے ہیں ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرات کرنے والے بس کچھ ہی ہیں .

جو 2017 سے اب تک نہ صرف کے الیکٹرک کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں بلکہ کے الیکٹرک کے ساتھ مافیا کا کردار ادا کرنے والے ان سیاہ ست دانوں کو بھی عوامی کٹہروں میں گھسیٹتے ہیں ۔۔۔۔ جماعت اسلامی کراچی کے حافظ نعیم واحد توانا آواز جو نیپرا کی ہئیرنگ سے سڑکوں پر عوامی احتجاج میں کراچی کا مقدمہ لڑتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ الیکٹرک کی حمایت میں ابھی کچھ لوگ بولتے ہیں ۔۔۔ سوچتی ہو کیسے بول لیتے ہیں کیا ان کی زبانوں میں لکنت نہیں ٹھیرتی،،،، کیا ان کی پیشانیاں شرم سے عرق آلود نہیں ہوتی….. کیا ضمیر نہیں کانپتا ان کا ۔۔۔۔ کے الیکٹرک کے سی او….. ڈائریکٹرز سمیت جتنے بھی حمایتی ہیں ان کے لئے نوشتہ دیوار بس یہی ہے کہ کراچی والوں کے صبر کا پیمانہ چھلک جانے کے قریب ہے ۔۔۔ چھوٹی سطح پر عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔۔۔

یہ پیمانہ مکمل جس دن چھلک گیا تو شاید بجلی کے ساتھ ساتھ آپ کی نوکریوں،،، جی حضوریوں،،، شاہ سے زیادہ شاہ کی طرح وفاداریوں کا کنکشن بھی منقطع ہوجائے گا ۔۔۔ عوامی غضب کی لہر چھوٹا، بڑا، امیر، غریب، افسر، نوکر، کچھ نہیں دیکھا کرتی سب بہا لے جاتی ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: