حادثے سے بڑا سانحہ – افشاں نوید

جو ساتھی بیرون ملک وبیرون شہر ہیں,وہ اس غم میں ہیں کہ فلائیٹ شیڈیول ھوتیں تو وہ عائشہ باجی واہل خانہ کے پاس تعزیت کے لیے آتے۔ کاش وہ اڑ کے آسکیں۔ جن کو اڑ کے نہیں پیروں سے چل کے جانا تھا۔

گاڑی نے چار موڑ موڑنے تھے وہ بھی نہیں جاسکے۔ اصل دکھ یہی ہے کہ غم بانٹنے سے ھلکا ہوجاتا ہے ……. غمگسار یا آئسولیشن میں ہیں یا کرونا کے خوف سے محبوس….. شادمان ٹاؤن سے ذہن میں ایک ہی شخصیت,ایک ہی گلی اور ایک ہی محلہ آتا ہے,عائشہ منور کا گھر اور ان کا محلہ اگر یہ کرونا کی وبا نہ ہوتی اور سماجی فاصلے زندگی کی ضرورت نہ بنتے تو اس وقت شادمان ٹاون کی گلیاں پارکنگ کے لئے کم پڑ جاتیں…… اور گلی در گلی شامیانے لگتے اور پھر بھی تعزیت کیلئے آنے والوں کو جگہ کم پڑتی۔ جہاں لوگ عائشہ باجی کے خاندان سے تعزیت کے لیے تو آتے ہی لیکن دراصل ایک دوسرے سے تعزیت کرتے کیونکہ اس وقت ہم میں سے ہر ایک یہ چاھتا ہے کہ اس سے تعزیت کی جائے…..

اس کا ذاتی نقصان ہوا ہے ,اس کے کنبہ کی سب سے محترم شخصیت نے داغ مفارقت دی ہے۔ ایک شاہ بلوط اور گرا ہے۔۔۔۔ ہم سب لوگ اسوقت شادمان ٹاؤن میں ایک دوسرے سے تعزیت کرتے . ایک دوسرے کو تسلی دیتے۔ہزاروں کا مجمع ہوتا….. جو اس عظیم سانحے کے موقع پر ایک دوسرے کا دکھ بٹاتے ….. ایک دوسرے کے کندھے پر سر رکھ کر رو لیتے، لیکن ہم دکھوں کے بوجھ تلے اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں ، نسیم صدیقی صاحب کے انتقال پر بھی ان کے اہل خانہ کی یہی ہدایات کے اپنے گھروں میں رہیں حفاظت کے پیش نظر اور دعائے مغفرت کریں۔ اس وقت بھی خواتین کو یہی ہدایت منور صاحب کے اہل خانہ کی طرف سے کہ اپنے گھروں پر رہی اور مغفرت کی دعا کریں

اسلام جو تہذیب سکھاتا ہے اس میں تعزیت کا حکم ہے. عیادت کا حکم ہے اور اس کے لئے اجر کی بشارت اس موقع پر انسان بہت تنہائی محسوس کرتا ہے. اپنے پیارے نظروں کے سامنے ہوں تو انسان کا دکھ کم ہوجاتا ہے .لیکن اس وقت جو بیمار ہے اس کے لئے بیماری سے بڑا عذاب تنہائی ہے .جو کسی غم میں مبتلا ہے اس کے لئے غم سے بڑا عذاب یہ ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی شکل بھی دیکھنے سے محروم ہیں وہ پیارے جن کو دیکھ کر ساری زندگی جیتے رہے جن کی خوشیاں غم ہمارے خوشی غموں سے جڑے ہوئے ہیں …… یہ اللہ کی ناراضگی نہیں تو اور کیا ہے۔ایسی بے بسی و بے کسی!!! اللہ نہ کرے کہ ہم پر دعاؤں کے دروازے بند پوں۔ قوم بنی اسرائیل پر اس کہ شقاوت کے باعث عرش پر دعا کے دروازے بند ہوگۓ تھے۔

مولا ہمیں اپنے غضب سے ھلاک نہ کپیجئے گا۔مولا بہت کمزور ولاچار ہیں ہم بندے۔۔۔بس اب عافیتوں کا نزول فرمائیے۔ ہماری عزیز ہستی آپ کی مہمان ہوئی ہے اسکی بہترین مہمان نوازی فرمائیے۔ ہم اپنے غم اور اشک آپ کے سامنے رکھتے ہیں مولا۔۔۔۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: