نہ جائےماندن،نہ پائےرفتن! – اسماءاعجازشاہ

بحیثیتِ مجموعی ہم پر بنی اسرائیل پر گرفت جیسا وقت آن پڑا ہے کہ اللہ کی چکی نےگھن و گیہوں، نیک و بد، ہر کس و ناکس کی قطار بندی تیز کردی ہے. اس وقت بہتر یہی ہے کہ انفرادی و اجتماعی طور پر ہمارا موضوعِ گفتگو اور عمل ……”اپنےمن میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی…. ” ہونا چاہئیے. اجازت ہوتوچلتے چلتے ایک تصیح کر دوں….!

میرےبھائی، بہنو!اختلافات کے وقت آپکی بات اعداد و شمار کےلوازمات کے ساتھ “چودھا آنے” درست ہوتی ہے. ایک تو کسرِنفسی سے کام لیتے ہوئے”کسی” کو یوں بھولپن کاسرٹیفکیٹ نہیں دیناچاہیئے. جانتے تو ہیں غلامی میں خالی الذہنی کےساتھ یا تو احکامات کی تعمیل کی جاتی ہے یا پھرتھوڑےسے بچےکھچےزندہ ضمیر پر، منمنی آواز میں بےبسی کے اظہار پر اکتفا کیاجاتا ہے اور یہی کیا جارہا ہے. میں نے نجی محافل میں پہلے ہی اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کی “21 رمضان” سے لیکر چاند رات اور پھر عید ملنوں کیلئے عوام کو جس طرح شتر بےمہار چھوٹ ملی ہے اس سے تمام ملک کے ساتھ ساتھ، بہاولپور جو کہ کووڈـ19 کےمعاملےمیں کسی حد تک پر امن شہر رہا…. ، بہت بھیانک صورتحال کا منظر پیش کرسکتا ہے. دیکھ لیں کہ اب میڈیکل کمیونٹی کی طرف سےبہاولپور میں بھی سخت لاک ڈاؤن بلکہ کرفیو کی تجویز سامنےآئی ہے.

اگر ایک خاتونِ خانہ جسکا ٹی وی، پرنٹ اور سوشل میڈیاسے بھی کم کم واسطہ ہو، وہ اسکا ادراک کر سکتی ہے تو کیا زمامِ کار سنبھالے اعلی “سطحی” دماغ یہ نہیں جانتےتھے…؟؟؟ اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو ضائع ہونے سےبچائیں. رجوع علی اللہ اور خدمتِ خلق کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش مذید بڑھائیں. اللہ ہماری توبہ قبول کرے اور موت سےپہلے مہلتِ عمل بڑھادے.آمین

(ملک میں پھیلی بحث برائے بحث پر چھوٹا سا تبصرہ)

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: