عام الحزن ( غم کا سال ۲۰۲۰) – نوراسلم خان

نعمت اللہ خان کے بعد دور جدید کا ایک اور نایاب درویش چل بسا !

منصورہ کی مسجد میں فجر کی آذان سے قبل پہنچنے والے، خشوع و خضوع کے ساتھ اپنے انداز سے قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے نماز پڑھانے والے ، جھکی نظروں کے ساتھ واپس اپنے کمرے میں پہنچنے والے …….. ہمیشہ ہلکے اور دنیاوی آسائشوں سے دور رہنے والے ، گفتگوں کرتے تو نپی تلی ، لکھتے تو خطاطی کا انداز ایسا کہ سید مودودی کی یاد آئے .

تقریر کرتے تو الفاظ موتیوں کی طرح مفاہیم اور معنی کا حق ادا کرتے ، جملوں کا انتخاب ایسا کہ جیسے لکھنو ں کا کوئ عالیشان ادیب ، عوامی اجتماعات میں فی البدیہہ تقریر کرتے تو ایسے محسوس ہوتا جیسے لکھی ہوئی تحریر پڑھ رہے ہیں۔ ایک دفعہ عصر کی نماز ختم ہوئ۔ سید صاحب مسجد سے نکلنے لگے تو منصورہ میں رہنے والے ایک کارکن نے فرط محبت سے ان کے جوتے سیدھے کرنے کی کوشش کی تو سرعت سے ان کا ہاتھ پکڑ کر مسکراہٹ سے منع فرمایا۔ نمازوں کے اوقات میں جیسے ہی آذان کا وقت قریب آتا تو کام چھوڑ دیتے۔ مسجد کی راہ لیتے۔ نظریں جھکی ہوتی۔ ادھر ادھر نہیں دیکھتے۔ یوں محسوس ہوتا جیسے اللہ کا یہ بندہ اپنے رب سے ملنے جب روانہ ہوتا تو زمین پر بندوں سے بے نیاز ہوجاتا۔

ملتے تو چہرے پر مسکراہٹ سجی رہتی ، ہاتھ ملایا جاتا تو ہاتھ یوں تھام لیتے جیسے برسوں کی رفاقت ، منصورہ میں رہتے ہوئے بھی کراچی کے پرانے ساتھیوں کے ساتھ اپنے انداز سے تعلق رکھتے، مرحوم مسلم سجاد کے ساتھ مختصر مگر دلچسپ مکتوبات کا تبادلہ رہتا ، کہی پر کچھ بہتر دیکھ لیتے تو دلجوئ کرتے ، کوئ ایسی بات دیکھتے یا سنتے جو طبعیت پر گراں گذرتی تو خاموش رہتے ! منصورہ میں رہائش کے دوران تقریباً آٹھ سال تک دن رات ان کو قریب سے دیکھا ، قیم جماعت کی حیثیت سے ، وہ قاضی صاحب کے بہترین اور قابل اعتماد ساتھی رہے۔ صاحب الرائے تھے۔ اپنی دل کی بات بلا کم و کاست کہنے کی جرات بھی تھی اور سلیقہ بھی تھا۔ درویش تھے۔ کم کھاتے تھے۔ کم سوتے تھے۔ کم بولتے تھے۔ زیادہ تر وقت لکھنے یا پڑھنے یا تنظیمی امور کو سرانجام دینے میں گذرتا۔ جہاد فی سبیل اللہ کا ایسا داعی کہ جب طالبان ، حماس ، حزب المجاہدین اور حزب اللہ کا نام لینا بھی جرم تھا آپ نے ببانگ دجل نہ صرف جہاد بالسیف کا نعرہ بلند کیا بلکہ اس کی خاطر کی جانے والی کوششوں کو سراہا ں۔

جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کی اس سنت حسینی کو اس سید زادے نے زندہ رکھا۔ دوراندیش ایسے کہ دس سال قبل ہی بتا دیا تھا کہ امریکہ افغانستان میں شکست کھا چکا ہے اور وہاں سے بھاگنے کے لئے محفوظ راستے کی تلاش میں ہے۔ موجودہ دور کے واقعات نے ان کی یہ پیشن گوی بھی صحیح ثابت کردی۔ انہوں امریکہ کے انحطاط اور زوال کی بھی نوید دی تھی جو کہ آج پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام جارج فلایڈ کے قتل اور اس کے ردعمل میں ہونے والے فسادات نے کسی حد تک صحیح ثابت کردی ہے۔ بحیثیت امیر انہوں نے قاضی صاحب علیہ الرحمہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلا کو بھرنے کے لئے بھر پور کردار ادا کیا۔ مشکل حالات میں کارکنان کو امید کی روشنی دکھائ۔ ان کو حوصلہ دیا اور اجتماعیت کے ساتھ جڑے رکھا۔

تحریکی ذمہ داریاں ادا کرنے جب منصورہ آئے تو چند جوڑے کپڑے اور ایک سوٹ کیس لائے تھے اور جب جارہے تھے تو تب بھئ یہی سرمایہ تھا۔ اللہ کا یہ بندہ اسی کا بندہ بنا رہا اور اسی کی طرف لوٹ گیا …… اللہ ان سے بہتر معاملہ فرماییں۔ انہوں نے اعلائے کلمہ اللہ کی خاطر زندگی کا ایک ایک لمحہ وقف کئے رکھا۔ جس مشن کو جوانی میں اپنایا اسی کو اوڑھنا بچھونا بنا کے رکھا۔ اور رب سے جا ملے۔ سید صاحب تحریک اسلامی کے ان چنیدہ افراد میں شامل تھے جن کو اصحاب علم و ذوق کہا جاتا تھا۔

ان کے انتقال سے علم و عمل کی ایک اور شمع بجھ گئ۔ اللہ ان کی قبر کو نور بھردیں ان کو شھدا ء اور صالحین کے ساتھ یکجا فرماییں اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرماییں۔ آمین۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: