پانی کی فراوانی – سماویہ وحید

میرا ادھر سے گزر ہوا تو ایک قدم بھی مزید آگے نہ بڑھا سکی …… بڑھاتی بھی کیسے ؟ اُس کی درد ناک چیخیں مجھے ایک دم چونکا گئ. پہلے پہل تو میں سمجھی کوئی مصیبت میں مبتلا ہے. لیکن جب میرے قدم اُس آواز کا جائزہ لیتے اُس جھونپڑی کے پاس رکے جدھر سے اکثر ہی میرا گزر ہوتا تھا تو میں ششد رہ گئی.

وہاں پر وہی بوڑھی عورت ، جسے میں اکثر دیکھتی تھی ….. آج کرب میں مبتلا تھی . اپنے آپ کو وہ مسلسل بددعائیں دے رہی تھی اور چیخ وچلا کر رو رہی تھی . میں اسکی جانب بڑھی اور احوال جاننے کی کوشش کی لیکن وہاں منظر ہی کچھ اور تھا….میں اس بوڑھی عورت سے مخاطب ہوئی اور کہنے لگی ….. اماں جی! خیریت تو ہے سب؟ آپ کیوں اتنے کرب میں مبتلا ہیں ؟ کوئی مصیبت یا بیماری ہے تو مجھے بتائیں شاید میں آپ کی کچھ مدد کرسکوں…اتنا کہنا تھا کہ وہ مزید پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی……. اے بی بی! میں تجھے کیا بتاؤں میری داستان سن کر تجھے کیا ملے گا….. اماں جی! خیر تو ہے…شاید میں کوئی حل نکال سکوں..آپ بتائیں تو سہی… بی بی! اگر تو سننا چاہتی تو آ بیٹھ سن لے لیکن بیٹی اسکا اب کوئی حل باقی نہیں رہا . میں بھی بڑے مہذب انداز میں بیٹھ گئی اور گویا وہ یوں شروع ہوئی….

“میرا نام ثمینہ علی ہے… بیٹا! میں ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئی . ماں کے گھر تو خوشحالی میرے قدم چومتی تھی لیکن آہستہ آہستہ تنگی نے آکر ہمیں اپنے گھیرے میں لے لیا. والد کے انتقال کے بعد سب کچھ بدل گیا . میں دو بھائیو کی اکلوتی بہن ہوں . میں نے گھر بیٹھ کر ہی سلائی کرنا شروع کر دی. ماں نے مجھے اپنی زندگی میں بیاہ دیا اور بھائی بھی اپنے گھروں کے ہو گئے جو اب مجھے پوچھتے تک نہیں ہے. میرا شوہر ایک شریف اور خودار انسان تھا. گھر کے مالی حالات بھی نہایت اچھے سے گزر رہے تھے…لیکن برے حالات آتے دیر کہاں لگتی ہے … یہ جو ہمارے سر پر بڑے بڑے مگر مچھ (حکمران) بیٹھے ہیں انھوں نے ہم سے سب کچھ چھین لیا. یوں ہم بے گھر ہوگئے. کچھ گزارا کر کر کے ہم ملتان سے کراچی یا یوں سمجھا جائے …….. ایک صحرا میں آکر ٹھرنے لگے چونکہ یہاں پر پانی کا کوئی اتا پتہ معلوم نہیں….

میرا بیٹا روزانہ شہر سے دو گھنٹے کی مسافت طے کر کے پانی لاتا تھا اور کچھ یوں زندگی گزرنے لگی. میرا شوہر روزانہ شہر جاتا اور شام گئے واپس آتا . اُس نے ایک اسکول میں چوکیداری کی ملازمت اختیار کر لی تھی. ماہانہ ۳۰۰۰مل ہی جاتے تھے . زندگی میں آسانیاں پیدا ہونے لگی تھی . آہ ….. !آہ …….. !میری کمبختی …. !آہ ، ایک دن میرا شوہر شہرگیا اور واپس جلد ہی گھر آپہنچا لیکن مردہ حالت میں … آہ !……..آہ……..!نصیب کی ہاری میں!

بڑھیا کا دل تھا کہ بے قابو ہوچلا تھا . میری کچھ تسلیاں دینے پر اُس نے اپنی بات آگے جاری رکھنے کی کوشش کی. میرے شوہر کو کسی امیر گھرانے کے شوخے انسان نے اپنی گاڑی کے نیچے روند ڈالا میرے اوپر تو قیامت سے پہلے ہی قیامت برپا ہوگئی تھی. ہم تو غریب ٹھرے ….. کیا کچھ کر سکتے تھے یہ تو امیروں کے چونچلے ہے کہ وہ عدالتوں میں بھی پہنچ جاتے ہیں . بڑھیا کی آواز تھی کہ مدھم ہوتی جا رہی تھی…….زبان جیسےاُسکا ساتھ دینا نہیں چاہ رہی تھی . بیٹی! میرا بیٹا۲۲ سال کا ہوگیا تھا غربت کی وجہ سے کئی تعلیم حاصل نہ کر سکا تھا . لیکن میرے بیٹے نے میری امیدیں بندھائی اور محنت کا ہاتھ نہ چھوڑنے کا عہد کر لیا. اُسے ایک ہوٹل میں بیرے کی نوکری مل گئی……….دن میں 300 کما کر لے ہی آتا تھا . صبح گیا شام کو واپس لوٹتا تھا. جاتے جاتے پانی کا بندوبست بھی کرنا ہوتا تھا.

ایک دن میرے جگر نے مجھ سے کہا! اماں جان بابا تو اس تنگ بھری دنیا سے نکل کر آرام فرما رہے ہیں اور میری خواہش ہے کہ میں اپنی ماں کو بھی سکون پہنچانے کی پوری کوشش کروں. آج ہمارے پاس پینے کے لیے پانی نہیں ہے لیکن ایک دن اماں تجھے میں پانی کی فراوانی دکھاؤں گا. تجھے سکون ہی سکون پہنچاؤ گا. جلد ہی یہ تنگی کے دن ختم ہو جائیں گئے……..لیکن قدرت کو کچھ اور ہی تقدیر میں لکھا تھا. ابھ ہفتہ ہی گزرا ہوگا کہ میرا بیٹا خیریت تو ہے آج اتنی جلدی کیوں جا رہے ہو کہنے لگا………..اماں جان! روزانہ مجھے پہنچنے میں دیر ہو جاتی ہے. آج میں جلدی پانی کی قطار میں لگ کر پانی بھر لوں گا یوں میرا وقت بھی ضائع نہیں ہوگا اور میں جلدی ہی آج گھر بھی پہنچ جاؤں گا.

وہ میری دعائیں سمیٹتے سمیٹتے نکل تو گیا لیکن……. آہ ………..آہ…… !میرے رب وہ کیا منحوسیت کا دن تھا….آہ ! میں اُسے جانے ہی نہ دیتی. بڑھیا کے درد بھرے جملے میرے اندر سوئی کی طرح چبھ رہے تھے. ایسا لگتا تھا یہ درد اُسکا نہیں میرا تھا. بیٹا! وہ اُس دن واقعی وقت سے پہلے گھر پہنچ گیا. لیکن مجھے وہ زندہ نہیں بلکہ لوگوں کے ہاتھوں میں سکون کی نینی میں غرق ملا.میرے لاکھ بُلانے پر وہ جاگتا ہی نہ تھا. بس اُسکا چہرہ مسکرا رہا تھا. آنکھیں پُر سکون تھی. میرا دل تھا کہ کٹ کر باہر نکلتا تھا. کلیجہ منہ کو آگیا تھا. میرے اندر میرا اندر ہی نہ رہا تھا. اُن لوگوں مجھے بتایا کہ امّاں!آپکا بیٹا سڑک پار کر رہا تھا کہ ایک گاڑی تیز دفتری سے آئی اور اسے ٹکر مار کر پانی کی نہر کے حوالے کردیا. نہر کا دباؤ تیز تھا اور چونکہ آپکا بچہ شدید زخمی تھا اسلیئے وہ ڈوبتا ہی چلا گیا . ہم لوگوں نے اِسے نکالنے کی بہت کوششش کی مگر یہ پانی کی نظر ہوگیا.

آہ……کیا منحوسیت سے بھرا دن تھا وہ……میرا غم ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتا . میرے بیٹے کو پانی کی فراوانی مل گئی . اُس نے پانی سے جی بھر لیا. اپنی ماں کا سکون بھی ساتھ لے گیا . اُسے کیا ہوش اُس کی ماں کدھر گئی ، کہاں بھٹک رہی ہے . اُس کی ماں مرتی کیوں نہیں . بیٹا کیا بتاؤں تجھے …… زندگی کی آخری سانسیں طے کر رہی ہوں. جتنی مجھ میں ہمت ہے تھوڑا بہت کام کر لیتی ہوں گزارہ ہو ہی جاتا ہے …… یہ سننا تھا کہ میرا ضبط ٹوٹ گیا اور میری بھی ہچکی بندھ گئی. میں وہاں مزید وقت نہ بیٹھ سکی. مجھ میں ہمت باقی نہیں تھی کہ میں اُس کی داستان مزید سن سکوں…. اگلے دن جب میں ادھر دوبارہ تشریف لے کر گئی تو وہاں کا منظر ہی کچھ اور تھا. لوگ بڑھیا کو خاک کے بستر پر لٹا رہے تھے. وہ پُر سکون نظر آرہی تھی . اُسکی مسکراہٹ میں سوال تھا! کیا مجھے بھی پانی مل گیا…..؟ میرے پوچھنے پر ان لوگوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ وہی ہوا جو اسکے بیٹے پر گزرا تھا . میری آنکھیں تھی کہ پھٹتی چلی جا رہی تھی. دل خون کے آنسوؤں میں لپٹ گیا تھا. اشک تو ساتھ بھی نہیں دے رہے تھے. میرے دل میں احساسیت کی امیدیں بھری تھی جو میں اُس بڑھیا کو لینے اُس کے در پر پہنچی تھی……لیکن قدرت کا لکھا ہی کچھ اور تھا….

میں آج بھی سوچتی ہوں کہ ہم پانی کا کتنا ضائع کرتے ہیں …….. جبکہ غریب عوام کو روٹی کیا پانی بھی میسر نہیں ہوتا. ہمیں پانی کی قدر و قیمت کا لحاظ نہیں . ہمیں پانی کی قدر کرنی ہوگئی کیونکہ آنے والے وقتوں میں آخری عظیم جنگ ہوگئی . جب ہم سے پانی چھین لیا جائے گا تو ہمیں احساس ہوگا کہ پانی بھی ایک نعمت ہے . جیسے کہ ہم جانتے ہیں کہ گرمیوں میں ہمارے کراچی کے بیشتر علاقوں میں پانی کی کتنی قلت ہو جاتی ہے . مہینوں بھر ہمیں پانی کیا ایک قطرہ بھی نصیب نہیں ہوتا……عوام پیاسی مر جاتی ہے……..قدرت کا کرنا یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں بارشیں بھی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے پودے ساکھ جاتے ہیں…اگر انسان کو کھانا نصیب نہیں ہے تو کم از کم وہ پانی پر ہی گزارا کر سکتا ہے….لیکن…. ! یہ انسان بے حس ہے کہ خود بھی پانی کا بچاؤ نہیں کرتا اور دوسروں کو بھی اس سے سرفراز نہیں ہونے دیتا….

جہاں تک میری سمجھ میں بات آتی ہے کہ یہ دراصل قصور ہمارا ہے اگر ہم عوام ان کرپٹ اژدھوں (حکمرانوں) کو ووٹ نہ دیں تو ہم پر تنگی نہیں بلکہ خوشحالی آجائے گئی…..ہمیں ان اژدھوں (حکمرانوں) کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگئی تاکہ اگر کھانا نصیب نہیں تو کم از کم پانی تو نصیب ہو. جس ہم زندگی کی ڈوری تو چلا سکیں. اللّٰہ ہمارے حق میں بہتر فیصلہ کریں اور ہمیں ان آزمائشوں سے نکالے (آمین)

اگرروٹی نصیب نہیں ہےتوپانی تونصیب ہو
جینے کے لیے کوئی ایک تو وسیلہ ہو

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: