اک عہد تھا جو تمام ہوا – عالیہ زاہد بھٹی

آنکھوں نے بہت دیکھا اور کانوں نے بہت سنا. وہ سلام جو میرے بچپن کی لوح پر لکھ لکھ کر سنایا گیا اور پڑھ پڑھ کر بتایا گیا…… اک طویل ترین عہد تھا جو بہت طویل محسوس ہوتا ہے کہ اس عہد کی ساعتوں میں برکتیں بہت زیادہ تھیں . آج جس عہد میں میرے بچے عمر گزار رہے ہیں .

اس عہد میں تو صبح بچے پیدا ہوتے ہیں اور رات گئے تک سوتے جاگتے ہر روز صبح کو رات کرتے اور رات کو صبح کرتے ہوئے اپنے بچپن کو پار کرتے چلے جارہے ہیں …….. ان کے پاس نہ تو گرمیوں کی طویل ترین چھٹیاں ہیں (کورونا کی چھٹیاں ملا کر بھی ہماری گرمیوں کے دو ماہ زیادہ طویل تھے) کہ جن کو گزارنے کے لئے ہم ٹارزن ،عمر وعیار اور عمران سیریز کا اسٹاک جمع کرتے تھے اور نہ ہی سردیوں کی شاموں میں سرسراتی ہواؤں کے ساتھ گلی میں رات گئے مونگ پھلی والے کی صدا کے ساتھ نائٹ رائٹر، دی ماسٹر، اور نیلام گھر کے انتظار میں جمعرات سے جمعرات گننا ہے……. مجھے یاد ہے کہ اندھیرا اجالا جمعہ کو آتا تھا اور نیلام گھر جمعرات کو
اور یہ جمعہ اور جمعرات بہت انتظار کے بعد آتے تھے . آج تو ابھی کل جمعہ گزارو آج پھر آجاتا ہے. ہمارے عہد کا جمعہ بہت انتظار کراتا تھا…….!

اور اس انتظار کی لذت آج کی ہر اک خوشی سے بڑھ کر ہوتی تھی ……. یہ وہ عہد تھا کہ جب زبان تو زبان سوچیں بھی حدودو قیّود کی پابند ہوا کرتی تھیں شین، قاف کا خیال صرف اہل زبان کا ہی شیوہ نہ تھا ، بلکہ ہم جیسے “نا اہلِ زبان” بھی نہایت شُستگی سے لہک لہک کر شعر پڑھنے کے لئے نیلام گھر کے انتظار میں رہا کرتے تھے کہ اس پروگرام سے ہی ہماری جرنل نالج اور زبان کی درستگی کا سارا سامان تھا
اس عہد کے اس پروگرام کی نمائندہ شخصیت تھی طارق عزیز صاحب کی ہر چند کہ معلومات کے مطابق ان کی کوئی اولاد نہیں تھی مگر آج ان کے انتقال کی خبر پر دکھتا، کٹتا، ٹوٹتا دل پوچھ رہا ہے اور اولاد کون ہوتی ہے؟ جو آپ کے جانے پر روئے،غمزدہ ہو کر رب سے آپ کی بخشش کی دعا کرے یہ سب کام اولاد ہی تو کرتی ہے ناں؟ آج میرے عہد کے وہ تمام ہم نشین ہاتھ اٹھائے دست بہ دعا ہیں کہ …….. یا باری تعالی تیرے اس بندے نے تیرے لوگوں کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، زبان و بیان سے لیکر اخلاقی معاملات تک کو جس خوبصورتی سے سکھایا کہ اس عہد کے نوجوان کی واردات قلبی کا بیان بھی حیااور حدوود کا پابند تھا .

آج کا حیا سوز میڈیا اور بندر کی طرح اچھلتے میزبان جب ٹھمکوں اور عورتوں کو غیر کے ساتھ بائک پر بٹھا کر بائک اپنے نام کروانے پر مجبور کر رہا ہے. اس شتر بے مہارعہد کے بدعہدوں نے اخلاقیات کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے .کبھی کولا نیکسٹ کوعورت کے بل پر بیچ رہا ہے تو کہیں زبان وبیان کو خلط ملط کرکے رکھ دیا گیا ہے کہ ہم جیسے بھی کہتے رہ گئے کہ

خبر لیجئے زباں بگڑی !

زبان تو اس عہد کی تب بگڑی تھی جب یہ میڈیا طارق عزیز جیسے لیجنڈز کے ہاتھوں سے عامر لیاقت،فہد مصطفی اور انہی جیسے نوٹنکی بھانڈوں کے ہاتھوں میں چلا گیا تھا ……. ہم طارق عزیز کی آواز میں اپنے عہد کی وہ کڑکڑاتی گرجتی آواز ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئے مگر وہ آواز جو مردِ آہن کی طرح دلوں کی دھڑکنوں کےزیر و بم کے ساتھ اترتی اور چڑھتی تھی جو فیض اقبال ، غالب، جالب ، میر، درد وانیس کی جولانیاں دکھا تی ہوئی مصرع طرح کی طرح کبھی طرح دے جاتی اور کبھی مطلع اور مقطع ادھورا چھوڑ کر مکمل کرنے پر انعامات کی بارش برسا دیتی تو کبھی معلومات کے بحرِ بیکراں سے طالبعلموں کو غوطے لگوا کر علم کے سمندر سے موتی چنوا کر زمانے میں معزز بننے کے گر سکھاتی تھی ……. بہت سیکھا طارق عزیز صاحب آپ سے میرے عہد کے جوانوں نے….!

ہاں ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم ہی وہ آخری نسل ہیں کہ جس نے محبت کی زبان کو تقدس سے ہم آہنگ رہنے دیا …….. جس نے حیا کو ہی حیا کہا بھی سمجھا بھی اور جانا بھی ہم ہی وہ آخری نسل ہیں….. جن کے جذبات اور احساسات کا تضاد تحریر کے ذریعے نمایاں ہوتا تھا ٹک ٹاک جیسے بازاری شوز کی قطعی ضرورت نہیں تھی، ہم تحریر اور تقریر کے مشّاق اور مشتاق رہا کرتے جبکہ آج جذبات کو سطح کے نچلے ترین درجے پر رکھ کر پاؤں کی ٹھوکر سے اڑا دینے کو ادب کہا جا رہا ہے. بیہودگی اور عریانی کو کلچر کا نام دیا جا رہا ہے. طارق عزیز صاحب کی موت نہیں یہ میرے عہد کی موت ہوگئ ہے. وہ عہد کہ جس کی ترجمانی کرنے والے چالیس کے قریب پہنچ رہے ہیں اور چالیس کا ہندسہ وہ ہندسہ ہے کہ جس پر پہنچ کر ہدایت کے دروازے کھل کر واضح ہو جاتے ہیں آر یا پار ہدایت یا گمراہی بس لاک ۔ طارق عزیز صاحب ہمارے عہد کو روشنی دکھانے والا چراغ آج خود بجھ گیا ہم اپنے حصے کی شمع جلا کر ان کی قبر کو نور سے بھرنے کی کوشش کرسکتے ہیں . آئیں ان کی اولاد بن جائیں اپنے رب کے حضور ہمارے عہد والے اپنی گواہیاں رقم کرائیں اور طارق عزیز صاحب کے تمام سلاموں کا حق ادا کردیں. کل ہم بھی جانے والے ہیں …… قبروں کے چراغ ہمیں بھی چاہیے

اے رب ہمارے گواہ رہیئے گا کہ آپ کے پاس آنے والا یہ بندہ طارق عزیز اپنی گفتگو سے پہلے آپ کے بابرکت نام کو جس خوبصورتی اور جلال سے ادا کرتا تھا اسی کے صلے میں اسے بخش دیںاور اچھا معاملہ فرمائیں اور ہم سب کی گواہیاں ان کے حق میں حجت بنا کر قبول فرمائیں آمین …… رب جلیل کے نام سے ابتدا کرنے والا رب جلیل کے نام سے ہی انتہا کرگیا .اک عہد تھا جو تمام ہوا….!

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: