حضرت خولہ بنتِ الازور رضی اللہ عنہ – اُنیسہ حق

13 ہجری میں شام کی فتح کا سلسلہ جاری تھا۔ مسلمان فوج اپنے سپہ سالار حضرت خالد بن ولید رضہ کی سربراہی میں صف بستہ تھی ۔ لشکرِ اسلامی نے دمشق کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ اسی لشکر میں دو ہزار سواروں کی قیادت حضرت ضرار بن الازور کر رہے تھے جو اپنی بہادری و شجاعت کی وجہ سے رومی لشکر میں ‘جن’ کے نام سے مشہور تھے۔

جب رومیوں کا ایک دستہ محاصرہ توڑنے کی نیت سے بڑھا تو حضرت خالد رضہ نے ضرار رضہ کو اس کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا۔ دس بارہ ہزار رومیوں لے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد بہت قلیل تھی۔ لیکن مومن تو بےتیغ بھی لڑتا ہے۔ مسلمانوں نے بڑی بےجگری سے مقابلہ کیا مگر وہ رومی لشکر کو پسپا نہ کر سکے۔ رومیوں نے حضرت ضرار رضہ اور چند اور مسلمانوں کو اپنی قید میں لے لیا اور واپس پلٹ گئے۔جب حضرت خالد بن ولید رضہ کو ضرار رضہ کی گرفتاری کا علم ہوا تو وہ بےحد ملول ہوۓ اور میسرہ بن مسروق رضہ کو ہزار سوار دمشق کے محاصرے کے لۓ دے کر باقی فوج کے ہمراہ رومی لشکر کے تعاقب میں روانہ ہوگئے

_______

وہ بھی شام کو فتح کرنے والے مجاہدین کے ہمراہ تھیں… وہ جن کا تعلق قبیلہ بنو سعد سے تھا ….. وہ جو بنت الازور تھیں۔ ان کی ذمےداری زخمیوں کی مرہم پٹی اور ان کا خیال رکھنا تھا، لیکن جب ان کو اپنے بھائی کی گرفتاری کی خبر ملی تو وہ اپنے بھائی کو چھڑانے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ آخر کو ان کے بھائی نے انھیں تلوار بازی اور لڑنا سکھایا تھا۔ بھلا وہ کیوں بیٹھی رہتیں۔

_________

قیدی چھڑانے کے لۓ پیچھا کرنے والے مجاہدینِ اسلام کے سامنے رومیوں کا ایک ٹھاٹیں مارتا لشکر موجود تھا۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان ہر چیز ساکت کھڑی تھی کہ اس لڑائی کا انجام آخر کیا ہوگا … کیا اُمتِ محمدیہ کے بہادر مجاہدین اپنے سے کئی گنا زیادہ بڑی فوج کو ہرا پائیں گے؟

اتنے میں میدان جنگ میں چھایا سکوت ٹوٹتا ہے اور ایک نقاب پوش گھڑ سوارں بہادری سے رومیوں کی طرف جھپٹتا ہے۔ وہ نقاب پوش جس بھی جانب رخ کرنا ہے وہاں ہر طرف رومیوں کی لاشیں نظر آتی ہیں۔ جب وہ رومیوں کی صفوں سے واپس نکلتا ہے تو اس کے نیزے سے خون ٹپک رہا ہوتا ہے۔ حضرت رافع بن عمیرہ رضہ کہتے ہیں کہ ہمیں لگا کہ وہ حضرت خالد بن ولید رضہ ہیں مگر جب وہ بھی ہمارے سامنے آ گئے تو ہمارا یہ اندازہ بھی غلط ثابت ہوگیا اور ہم اس نقاب پوش کو نہیں پہچان پاۓ تھے جس نے اپنی شجاعت اور دلیری کی وجہ سے بھگدڑ مچا دی تھی۔ اس کو زخم پر زخم لگتے لیکن وہ ان کی پرواہ کیے بغیر حملہ کئے جاتا۔ ہم سب اس کی سلامتی کے لیے دعا گو تھے۔

جب جنگ ختم ہوئی تو حضرت خالد بن ولید رضہ نے اس نقاب پوش کی جرآت کی تعریف کی اور کہا کہ اپنا نقاب ہٹا تاکہ میں دیکھ سکوں کہ تو کون مردِ مجاہد ہے۔ مگر وہ نقاب پوش خاموشی سے کھڑا رہا۔ جب لشکرِ اسلام کے مجاہدین نے بہت اصرار کیا تو اس نقاب پوش نے نسوانی آواز میں جواب دیا “اے امیر آپ ایک عظیم راہنما ہیں اور میں تو صرف ایک عورت ہوں جس کا دل اس کے بھائی کی گرفتاری پر مغموم ہے۔” اس نے کہا “میں الازور کی بیٹی خولہ ہوں، ضرار بن الازور کی بہن۔”

_________

آئیں ماضی سے نکل کر ہم اپنا احتساب کرتے ہیں ……. .کیا آج ہم میں سے کوئی حضرت خولہ بنتِ الازور کی طرح جنگ میں کھڑا ہوسکتا ہے ؟ کیا ہم آج کے موجودہ دشمنانِ اسلام کی صفوں میں بھگدڑ مچا سکتے ہیں؟ شاید پڑھنے والے زیادہ تر لوگ اس بات کی نفی کریں کہ اب زمانہ بدل گیا ہے۔ لیکن میں یہ کہتی ہوں کہ یہ آج بھی ممکن ہے کیونکہ دشمن تو وہی ہیں بس ان کے طریقے بدل گئے ہیں۔ اگر وہ ٹیکنالوجی میں ہم سے زیادہ آگے ہیں تو کیا ہوگیا ۔آج بھی فتحِ مبین ہمیں مل سکتی ہے۔

ہمیں میدانِ جنگ پر بھی جانے کی ضرورت نہیں ہے …….. بس اللہ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم عدولی کی طرف کے جانے والی چیزوں سے بچ کر اور دوسروں کو بھی بچا کر ہم آج بھی کفّار کی صفوں میں کھلبلی مچا سکتے ہیں۔ بس فضائے بدر پیدا کرنے کی دیر ہے اور کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: