چشم، گریا میں گرا آنسو نہیں ہے – عدنان بن وسیم

مسافر مضمحل یکسو نہیں ہے
دِلِ تشنہ یہ آبِ جو نہیں ہے!

تپش باقی ہے گر اب بھی لہو میں
سخن ور دِل میں باقی خو نہیں ہے!

کنارہ کر لیا گلشن سے میں نے
بہت ہیں گل مگر خوشبو نہیں ہے!

نکالو جو مری وحشت کا مطلب
دِلِ بے کل میں باقی تو نہیں ہے!

گرفتہ دل ھوں ادنیٰ دِل شکستہ
چشم، گریا میں گرا آنسو نہیں ہے !

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: