آج کے بے بس والدین – ثمن عاصم

موبائل دے دیں …….. ! میری پانچ سال کی بیٹی نے کہا . میرے منع کرنے پر اس نے ضد پکڑ لی ….. آجکل کے بچےبھی بلیک میلنگ کے سب طریقوں سے واقف ہیں. اس نے بھی بات منوا کر چھوڑی ۔ کل میری جاننے والی کی دو سالہ بیٹی کے کان میں آئس کریم والے کی آواز آئی تو وہ مچل اٹھی نزلے کی شدت کے باعث ماں آئس کریم دلانے سےکترا رہی تھی…….. مگر بچی تھی کہ زمین پر لیٹ گئی .

ہار کر ماں نے دلا ہی دی…… ساتھ دھمکی بھی دی کہ نزلہ ذیادہ ہوا تو اٹھا کے پھینک دونگی مگر بچی کو کیا فکر اسے تو آئس کریم کی خوشی تھی. ایک اور جاننے والے ہیں ، انکا سات سال کا بیٹا رات میں نہا کر سوتا ہے ….! سردیوں میں ہم نے حیرت سے پوچھا ، اس وقت نہانا؟ ما ں نے بتایاکہ مانتا ہی نہیں ۔ ایک ہفتہ پہلے ہماری چھت پر بلی نے تین بچے دے دئیے پہلے دن تو میں جب انکو دیکھ رہی تھی. بلی مجھے گھور کر دیکھتی رہی….. میں بھی ذرا محتاط ہی رہی . میرے روز چھت پر جانے اور کوئی نقصان نہ پہنچانے پر بلی کا اعتماد ذرا بحال ہو گیا ….. تاہم وہ اب بھی دور سے میرا جائزہ ضرور لیتی کہ کہیں اسکے بچوں کو میں کوئی نقصان نہیں پہنچا دوں. تین ہفتے یونہی گزر گئے . اب بچے ذرا بڑے ہو گئے تھے . ایک روز میں نے دیکھا کہ بلی اور دو بچے غائب ہیں . جبکہ تیسرا اسی کارٹن میں موجود ہے . جہاں بچے دئیے تھے کہیں بلی اسے بھول نہ گئی ہو.

مجھے اس پر ترس آیا بھوکا بھی ہوگا میں نے اسے اٹھا کر دیکھا مگر اسی وقت بلی نے کارٹن کے پیچھے سے غرا کر میاوں نکالی وہ کارٹن کے پیچھے ہی تھی دراصل وہ انہیں کارٹن سے اترنا سیکھا رہی تھی باقی بچے اتر گئے تھے مگر یہ ڈر رہا تھا کافی دیر تک تماشہ دیکھ کر میں نیچے چلی گئی اگلے دن میں چھت پر گئی تو بچہ ابھی تک اسی کارٹن میں تھا جبکہ بلی بھی بضد تھی کہ یہ خود اترے گا بچے بھی یہ سب دیکھ رہے تھے .تھوڑی دیر بعد بڑی بیٹی نے بتایا کہ بچہ خود اتر گیا …….اب بلی اسے پیار سے چاٹ رہی تھی. میں یہ سوچ رہی تھی کہ ایک جانور بھی اولاد کو اپنی مرضی سے پالتا ہے تو ہم آجکل کے والدین اتنے بے بس کیوں ہیں کہ ہر جائز یا نا جائز اولاد کی خواہش کے آگے ہتھیار ڈال دیتے…؟ یہ جبکہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے والدین اس معاملے میں نہ بے بس تھے اور نہ ہم جیسے نام نہاد ڈگریہولڈر ہم یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ آجکل کے بچے مانتے نہیں ہیں .

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں منوانا ہی نہیں آتا ۔ بات منوانے کے کئی طریقے ہیں ……. اگرہم چاہتے ہیں کہ بچے ہماری بات مانیں تو سب سے ضروری ہے کہ ہم انہیں وقت دیں آجکل کی مائیں کاموں میں مصروف ہوتی ہیں ….. تو بچوں کو مو بائل پکڑا دیتی ہیں اورجب فارغ ہو تی ہیں تو خود موبائل استمعال کرنے لگ جاتی ہیں یعنی بچوں کی با تیں سننے کا کوئی وقت نہیں ہمارے پاس نتیجے کے طوبچےبھی ہماری بات سننے کو تیار نہیں ہوتے بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں۔ ایک طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے ہم بچے کی کوئی بری عادت دیکھیں تو رات میں اپنے پاس لٹا کر ایسی کوئی فرضی کہانی سنا دیں….. جس میں کوئی اور بچہ اسی عادت میں مبتلا تھا. پھر اسے سزا ملی یقین کریں . بچے ہماری سوچ سے زیادہ ہوشیار ہو تے ہیں ……. وہ سب سمجھ جاتے ہیں کہ ہمارا مقصد کیا ہے۔ بچوں پر بار بار اعتماد کا اظہار کریں کہ مجھے یقین ہے فلاں بری عادت میں میرا بچہ مبتلا نہیں ہو سکتا ۔بچوں کے سامنے کبھی جھوٹ نہ بولیں اور نہ ہی ان سے جھوٹے وعدے کریں آپ سے کوئی غلطی ہو جائے تو اسے مان لیں….. تاکہ بچے بھی غلطی ماننے میں جھجک محسوس نہیں کریں ۔

آخر میں ایک انتہائی اہم بات آپ الله کے اسکے رسول کے فرمانبردار ہو جائیں آپکی اولاد آپکی فرمانبردار ہو جائے گی ۔انشاءاللہ

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)